جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاک بھارت سندھ طاس معاہدے کی منسوخی،بھارتی سپریم کورٹ نے اہم ترین مقدمے کا فیصلہ سنادیا

datetime 10  اپریل‬‮  2017 |

نئی دہلی (آئی این پی)بھارتی سپریم کورٹ نے سندھ طاس معاہدہ غیر قانونی ،غیر آئینی قرار دینے سے متعلق درخواست مسترد کردی۔پیر کو بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے سندھ طاس معاہدہ غیر قانونی ،غیر آئینی قرار دینے سے متعلق درخواست مسترد کردی۔چیف جسٹس جے ایس کیہار کی سربراہی میں بینچ کا کہنا تھاکہ 1960 میں ہونے سندھ طاس معاہدہ ٹھیک جارہا ہے۔ مقامی وکیل ایم ایل شرما کی درخواست بھارتی سپریم

کورٹ نے مختصر سماعت کے بعدمسترد کی۔بینچ میں ڈی وائی چندراچد اور ایس کے کاہول بھی شامل تھے نے واضح کیا کہ درخواست کو مسترد کرنے کے حکم سے کسی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان 1960 سے موجود ہے۔ معاہدے کی رو سے پنجاب میں بہنے والے بیاس راوی اور ستلج دریاں کے پانیوں پر انڈیا جب کہ سندھ چناب اور جہلم کا پانی پاکستان کے اختیار میں دیا گیا۔لیکن بھارت اس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں دریائے چناب اور جہلم پر ڈیم تعمیر کر رہا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کے حصے کا پانی مسلسل کم ہو رہا ہے پاکستان اس حوالے سے عالمی بینک سے احتجاج بھی کرتا چلا آ رہا ہے لیکن بھارت نے متنازعہ آبی منصوبوں پر کام نہیں روکا مقبوضہ کشمیر میں اڑی واقعے کے بعد حالات مزید خراب ہوئے اور بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے پاکستان کا پانی بند کرنے کا اعلان کیا اسی دوران عالمی بینک نے سندھ طاس معاہدہ پر غیر جانبدار ماہر کا تقرر روک دیا ہے جب کہ پاکستان کا ثالثی عدالت کے قیام کے مطالبہ پر بھی پیش رفت کی دوسری جانب سے مخالفت جاری ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے پاکستان کا پانی بند کرنے کا اعلان کیا اسی دوران عالمی بینک نے سندھ طاس معاہدہ پر غیر جانبدار ماہر کا تقرر روک دیا ہے جب کہ پاکستان کا ثالثی عدالت کے قیام کے مطالبہ پر بھی پیش رفت کی دوسری جانب سے مخالفت جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…