بدھ‬‮ ، 08 اپریل‬‮ 2026 

لرزہ خیز حملے کی ذمہ داری داعش نے ذمہ داری قبول کرلی 

datetime 9  اپریل‬‮  2017 |

قاہرہ (آئی این پی)مصر میں پام سنڈے کے موقع پر دو قطبی گرجاگھروں پر ہونے والے بم دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 47ہوگئی ہے جبکہ 100 سے زائدافراد زخمی ہیں جس میں سے کئی افراد کی حالت تشویشناک ہونے سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ،شدت پسند تنظیم داعش نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی جبکہ دھماکوں کے بعد سیکورٹی کے صوبائی سربراہ عہدے سے برطرف کردیا

گیا ،مصری صدر کا فوج کو اہم تنصیبات کی حفاظت یقینی بنانے کا حکم دیدیا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق مصر کے شہر طنطا میں پام سنڈے کے موقع پر دو قطبی گرجاگھروں پر ہونے والے بم دھماکوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والے مزید کئی افراد دم توڑ گئے جس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد 47ہوگئی جبکہ 100 سے زائد زخمی افراد مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جنھیں طبی امداد دی جارہی ہے ۔بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ دھماکے ایسے موقع پر ہوئے ہیں جب ایک ہفتے بعد عیسائی برادری ایسٹر کا تہوار منانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں جبکہ کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس بھی رواں ماہ مصر کا دورہ کرنے والے ہیں۔ سیکورٹی حکام کاکہنا ہے کہ پہلا دھماکہ صبح دس بجے کے قریب دریائے نیل کے قریب واقع شہر طنطا کے ایک گرجا گھر میں ہوا جس کے نتیجے میں 29 افراد ہلاک اور 71 زخمی ہوئے۔دوسرا دھماکا چند گھنٹوں بعد شہر اسکندریہ کے ایک گرجا گھر میں ہوا، یہ خود کش دھماکا تھا جس میں قطبی پوپ کی تاریخی نشست کو نشانہ بنایا گیا اور اس میں3 پولیس اہلکاروں سمیت 18 افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے۔خیال رہے کہ پام سنڈے عیسائیوں کے مقدس دنوں میں سے ایک ہے جس کو وہ حضرت عیسی کو یروشلم میں فاتح کے طورپر داخل

ہونے کی مناسبت سے مناتے ہیں۔میڈیا میں چرچ کے اندر کے دکھائے جانے والے مناظر کے مطابق لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں موجود تھی اور خون میں لت پت لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔دوسری جانب شدت پسند تنظیم داعش نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی جبکہ مصری صدر عبدالفتح السیسی نے قومی دفاع کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے جبکہ وہ خود بھی طنطا کا دورہ کریں گے۔ دھماکوں کے بعد سیکورٹی کے صوبائی سربراہ جنرل ہوسام الدین خلیفہ کو تبدیل کردیا گیا ہے جبکہ مصری صدر کا فوج کو اہم تنصیبات کی حفاظت یقینی بنانے کا حکم دیدیا۔

یاد رہے کہ چار سال قبل مصری فوج نے اخوان المسلمین کے منتخب صدر محمد مرسی کو ہٹا کر حکومت اپنے ہاتھوں میں لی تھی اور فوج کے سربراہ عبدالفتح السیسی حکومت کے سربراہ بنے تھے جو بعد ازاں صدر بن گئے تھے۔اس سے قبل 11 دسمبر 2016 کو بھی مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے مرکزی چرچ میں ہونے والے بم دھماکے میں 25 افراد ہلاک اور 49 زخمی ہوگئے تھے۔اس دھماکے میں قاہرہ کے آرتھوڈوکس عیسائیوں کے سینٹ مارکس کیتھیڈرل چرچ کو نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ دھماکا خیز مواد چرچ کے اندر خواتین کی نشستوں کے پاس نصب کیا گیا تھا جس میں تقریبا 12 کلو تک بارود موجود تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…