منگل‬‮ ، 16 جون‬‮ 2026 

لرزہ خیز حملے کی ذمہ داری داعش نے ذمہ داری قبول کرلی 

datetime 9  اپریل‬‮  2017 |

قاہرہ (آئی این پی)مصر میں پام سنڈے کے موقع پر دو قطبی گرجاگھروں پر ہونے والے بم دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 47ہوگئی ہے جبکہ 100 سے زائدافراد زخمی ہیں جس میں سے کئی افراد کی حالت تشویشناک ہونے سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ،شدت پسند تنظیم داعش نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی جبکہ دھماکوں کے بعد سیکورٹی کے صوبائی سربراہ عہدے سے برطرف کردیا

گیا ،مصری صدر کا فوج کو اہم تنصیبات کی حفاظت یقینی بنانے کا حکم دیدیا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق مصر کے شہر طنطا میں پام سنڈے کے موقع پر دو قطبی گرجاگھروں پر ہونے والے بم دھماکوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والے مزید کئی افراد دم توڑ گئے جس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد 47ہوگئی جبکہ 100 سے زائد زخمی افراد مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جنھیں طبی امداد دی جارہی ہے ۔بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ دھماکے ایسے موقع پر ہوئے ہیں جب ایک ہفتے بعد عیسائی برادری ایسٹر کا تہوار منانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں جبکہ کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس بھی رواں ماہ مصر کا دورہ کرنے والے ہیں۔ سیکورٹی حکام کاکہنا ہے کہ پہلا دھماکہ صبح دس بجے کے قریب دریائے نیل کے قریب واقع شہر طنطا کے ایک گرجا گھر میں ہوا جس کے نتیجے میں 29 افراد ہلاک اور 71 زخمی ہوئے۔دوسرا دھماکا چند گھنٹوں بعد شہر اسکندریہ کے ایک گرجا گھر میں ہوا، یہ خود کش دھماکا تھا جس میں قطبی پوپ کی تاریخی نشست کو نشانہ بنایا گیا اور اس میں3 پولیس اہلکاروں سمیت 18 افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے۔خیال رہے کہ پام سنڈے عیسائیوں کے مقدس دنوں میں سے ایک ہے جس کو وہ حضرت عیسی کو یروشلم میں فاتح کے طورپر داخل

ہونے کی مناسبت سے مناتے ہیں۔میڈیا میں چرچ کے اندر کے دکھائے جانے والے مناظر کے مطابق لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں موجود تھی اور خون میں لت پت لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔دوسری جانب شدت پسند تنظیم داعش نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی جبکہ مصری صدر عبدالفتح السیسی نے قومی دفاع کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے جبکہ وہ خود بھی طنطا کا دورہ کریں گے۔ دھماکوں کے بعد سیکورٹی کے صوبائی سربراہ جنرل ہوسام الدین خلیفہ کو تبدیل کردیا گیا ہے جبکہ مصری صدر کا فوج کو اہم تنصیبات کی حفاظت یقینی بنانے کا حکم دیدیا۔

یاد رہے کہ چار سال قبل مصری فوج نے اخوان المسلمین کے منتخب صدر محمد مرسی کو ہٹا کر حکومت اپنے ہاتھوں میں لی تھی اور فوج کے سربراہ عبدالفتح السیسی حکومت کے سربراہ بنے تھے جو بعد ازاں صدر بن گئے تھے۔اس سے قبل 11 دسمبر 2016 کو بھی مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے مرکزی چرچ میں ہونے والے بم دھماکے میں 25 افراد ہلاک اور 49 زخمی ہوگئے تھے۔اس دھماکے میں قاہرہ کے آرتھوڈوکس عیسائیوں کے سینٹ مارکس کیتھیڈرل چرچ کو نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ دھماکا خیز مواد چرچ کے اندر خواتین کی نشستوں کے پاس نصب کیا گیا تھا جس میں تقریبا 12 کلو تک بارود موجود تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…