جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بارڈرکھول دینے پر بھی افغانستان کی تسلی نہ ہوئی،پاکستان کیخلاف افسوسناک اقدام

datetime 23  مارچ‬‮  2017 |

کابل/واشنگٹن (آئی این پی )افغانستان نے پاکستان کوملک میں عدم استحکام کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیاہے کہ وہ پاکستان کو دہشتگردی کو ریاستی پالیسی کے ہتھیارکے طورپر استعمال کرنے سے روکے ، پاکستان میں دہشتگرد گروپوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں اورپڑوسی ملک کی طرف سے دہشتگردکو بلارکاوٹ حمایت فراہم کی جاتی ہے ۔افغان میڈیا کے مطابق افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی جو

امریکہ میں ہونے والی اینٹی کولیشن گروپ کے اجلاس میں شرکت کیلئے واشنگٹن کے دورے پر ہیں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کو دہشتگردی کو ریاستی پالیسی کے ہتھیارکے طورپر استعمال کرنے سے روکے۔ربانی نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ جنگ زدہ ملک میں عدم استحکام کی وجہ ہے اور وہاں دہشتگرد گروپوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔پڑوسی ملک کی جانب سے دہشتگردوں کو بلارکاوٹ حمایت فراہم کی جاتی ہے ۔افغان وزیر خارجہ نے کہاکہ قومی اتحاد کی حکومت نے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کا نیا باب کھولنے کی کوشش کی ہے ، بدقسمتی سے ہم نے پاکستان کی طرف سے کیے گئے وعدوں کے حوالے سے عملی اقدامات نہیں دیکھے۔ربانی نے کہاکہ پاکستان کی جانب سے طالبان کو امن مذاکرات کی میز پر لانے کی ضرورت ہے ۔افغان وزیر خارجہ نے کہاکہ قومی اتحاد کی حکومت نے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کا نیا باب کھولنے کی کوشش کی ہے ، بدقسمتی سے ہم نے پاکستان کی طرف سے کیے گئے وعدوں کے حوالے سے عملی اقدامات نہیں دیکھے۔ربانی نے کہاکہ پاکستان کی جانب سے طالبان کو امن مذاکرات کی میز پر لانے کی ضرورت ہے ۔وزیر خارجہ نے کابل اور قندھار میں حالیہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان مذاکرات کی میز پر نہیں آنا چاہتے ۔پاکستان افغانستان کو ایک خودمختار اور آزاد ملک کے طور پر دیکھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…