ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

’’بھارت میں لڑکیوں کا احتجاج ‘‘ پاکستان کے معروف شاعر فیض احمد فیض کی یاد تازہ ہوگئی ۔۔ لڑکیوں نے آخر ایسا کیا کیا ؟ 

datetime 3  مارچ‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نئی دہلی(ما نیٹرنگ ڈیسک ) بھارتی دارالحکومت میں ہندو انتہا پسندوں کی نفرت اوردھمکیوں کا نشانہ بننے والی طالبہ کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلی میں پاکستانی شاعر فیض احمد فیض بھارتی طلبہ کے لیے حریت کا استعارہ بن گئے۔تفصیلات کے مطابق دہلی یونیورسٹی کے طلبا انتہا پسندوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں لیکن اس مہم کو شروع کرنے والی اس احتجاج میں شامل نہیں،

دھمکیاں ملنے کے بعد گر مہر کور نے خود کو مہم سے علیحدہ کرلیا ہے۔بھارتی طالبات نے احتجاج کے دوران گر مہر کور سے اظہارِ یکجہتی کیا اور اس کو دی جانے والی ریب کی دھمکیوں پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا۔ اس موقع پر طالبات نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے۔ان پلے کارڈز میں سب سےنمایاں پاکستانی شاعر فیض احمد فیض کی نظم ’بول‘ کا مشہورِ زمانہ مصرعہ “بول کے لب آزاد ہیں تیرے” درج تھا۔گر مہر کور نے منگل کی صبح ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ میں اس مہم سے خود کو الگ کر رہی ہوں، گذارش کرتی ہوں کہ مجھے تنہا چھوڑ دیں، مجھے جو کہنا تھا وہ کہہ چکی ، مجھے سوشل میڈیا پر بہت دھمکیاں دی جارہی ہیں، میرا خیال ہے کہ یہ آپ کیلئے بہت خوفناک ہوجاتا ہے جب لوگ آپ کو تشدد اور ریپ کی دھمکیاں دے رہے ہوں۔کارگل میں ہلاک ہونے والی بھارتی فوجی کی بیٹی نے ہندو انتہا پسندوں کے خلاف آواز اٹھائی اور سوشل میڈیا پر یہ پیغام دیا تھا کہ ’’میرے والد کو پاکستان نے نہیں جنگ نے مارا‘‘ یہ کہنے کے بعد گر مہر کور کا جینا عذاب کردیا گیا تھا. انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے زیادتی کی دھمکیاں دی گئیں۔خیال رہے کہ بھارتی طالبہ کے والد بھارت آرمی میں کیپٹن تھے اور 1999 میں پاکستان کے ساتھ منسلک سرحد پر ایک حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…