بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

’’بھارت میں لڑکیوں کا احتجاج ‘‘ پاکستان کے معروف شاعر فیض احمد فیض کی یاد تازہ ہوگئی ۔۔ لڑکیوں نے آخر ایسا کیا کیا ؟ 

datetime 3  مارچ‬‮  2017 |

نئی دہلی(ما نیٹرنگ ڈیسک ) بھارتی دارالحکومت میں ہندو انتہا پسندوں کی نفرت اوردھمکیوں کا نشانہ بننے والی طالبہ کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلی میں پاکستانی شاعر فیض احمد فیض بھارتی طلبہ کے لیے حریت کا استعارہ بن گئے۔تفصیلات کے مطابق دہلی یونیورسٹی کے طلبا انتہا پسندوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں لیکن اس مہم کو شروع کرنے والی اس احتجاج میں شامل نہیں،

دھمکیاں ملنے کے بعد گر مہر کور نے خود کو مہم سے علیحدہ کرلیا ہے۔بھارتی طالبات نے احتجاج کے دوران گر مہر کور سے اظہارِ یکجہتی کیا اور اس کو دی جانے والی ریب کی دھمکیوں پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا۔ اس موقع پر طالبات نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے۔ان پلے کارڈز میں سب سےنمایاں پاکستانی شاعر فیض احمد فیض کی نظم ’بول‘ کا مشہورِ زمانہ مصرعہ “بول کے لب آزاد ہیں تیرے” درج تھا۔گر مہر کور نے منگل کی صبح ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ میں اس مہم سے خود کو الگ کر رہی ہوں، گذارش کرتی ہوں کہ مجھے تنہا چھوڑ دیں، مجھے جو کہنا تھا وہ کہہ چکی ، مجھے سوشل میڈیا پر بہت دھمکیاں دی جارہی ہیں، میرا خیال ہے کہ یہ آپ کیلئے بہت خوفناک ہوجاتا ہے جب لوگ آپ کو تشدد اور ریپ کی دھمکیاں دے رہے ہوں۔کارگل میں ہلاک ہونے والی بھارتی فوجی کی بیٹی نے ہندو انتہا پسندوں کے خلاف آواز اٹھائی اور سوشل میڈیا پر یہ پیغام دیا تھا کہ ’’میرے والد کو پاکستان نے نہیں جنگ نے مارا‘‘ یہ کہنے کے بعد گر مہر کور کا جینا عذاب کردیا گیا تھا. انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے زیادتی کی دھمکیاں دی گئیں۔خیال رہے کہ بھارتی طالبہ کے والد بھارت آرمی میں کیپٹن تھے اور 1999 میں پاکستان کے ساتھ منسلک سرحد پر ایک حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…