بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ چین کا گھیراؤ کرنا چاہتاہے ،بھارت اس کا جغرافیائی اتحادی ہے،اہم چینی ادارے کے ڈائریکٹر کے انکشافات

datetime 1  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)چین کے انسٹی ٹیوٹ آف ساؤتھ اینڈ ساؤتھ ایسٹ ایشئین سٹڈیز کے ڈائریکٹر اور عالمی امور کے ماہر ہو شیشنگ نے کہاہے کہ خطے میں موجود تنازعات سی پیک کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتے۔چین کا مقصد تنا زعات کو ابھارنا نہیں بلکہ ان کا حل تلاش کرنا ہے۔امریکہ اپنے جغرافیائی مفاد کے لئے بھارت کو عالمی طاقت دیکھنا چاہتا ہے جس کے پاکستان اور چین پر منفی اثرات ہوں گے۔

وہ بدھ کو یہاں پر پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے زیر اہتمام ایک سمینار سے خطاب کر رہے تھے جس کا عنوان ’’بدلتا ہوا علاقائی منظر نامہ اور سی پیک ‘‘ تھا۔سمینار سے سابق وزیر خارجہ انعام الحق ، پروفیسر ڈو یانجن ،لیفٹیننٹ جنرل مسعود اسلم ،ریجنل پیس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر رؤف حسن ، ڈاکٹر فضل الرحمٰن ، ہمایوں خان اور پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے بھی خطاب کیا۔ ہو شیشنگ نے کہا کہ سی پیک کو پاکستان کے داخلی اور خارجی سطح پر کئی ایک چیلنجز درپیش ہیں۔جن میں سب سے بڑا چیلنج بد امنی ہے جس کے بارے میں چین میں تشویش پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ بحیرہ جنوبی چین کے مسئلے پر خطے میں چین کا گھیراؤ کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے بھارت اس کا جغرافیائی اتحادی ہے اور مستقبل میں دونوں کا فوجی اتحاد بن سکتا ہے۔ چائنا انسٹی ٹیوٹ آف کنٹمپ ریری انٹرنیشنل ریلیشنز کی معاون خصوصی ڈویانجن نے کہا کہ دنیا میں چین کے دو ہی ممالک جغرافیائی اتحادی ہیں ایک روس اور دوسرا پاکستان ،ا س لئے پاکستان کی ترقی چین کی ترقی ہے۔انعام الحق نے کہا کہ مغرب یا امریکہ کو سی پیک سے کوئی مسئلہ نہیں۔بھارت پاکستان کو عالمی دنیا سے الگ کرنے کے لئے سازشیں کر رہا ہے کیونکہ اگر سی پیک بن گیا تو پاکستان کئی ممالک سے منسلک ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ دنیا بھارت کی آواز پر کان دھرے گی۔ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے کہا کہ سی پیک کو داخلی سطح پر کوئی بڑ اچیلنج درپیش نہیں پاکستان تمام چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔رؤف حسن نے کہا کہ اگر تمام علاقائی ممالک سی پیک کو باہمی رابطوں کے لئے استعمال کریں تو خطے میں ترقی اور امن کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں

۔ہمایوں خان نے کہا کہ سی پیک کے راستے میں حائل داخلی رکاوٹوں کو دور کیا جاناچاہئے تاکہ جلد از جلد منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچے۔پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے کہا کہ علاقائی رابطوں کو استوار کرنے سے ہی دیرپا امن کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے اور اس کے لئے سی پیک گیم چینجر بن سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…