جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

سفری پابندیاں، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اسلامی ملک کا نام لسٹ سے نکال دیا

datetime 1  مارچ‬‮  2017 |

واشنگٹن(آئی این پی) امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ سفری پابندیوں کے حوالے سے جاری ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے حکم نامے میں عراق کا نام شامل نہیں ہوگا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں برس جنوری میں جاری کیے گئے متازع سفری حکم نامے کے مسترد ہونے کے بعد آئندہ چند دنوں میں ایک نئے ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کرنے والے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطا بق وائٹ ہاؤ س کے 4 عہدیداران نے بتایا کہ یہ فیصلہ پینٹاگون اور امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بھاری دباؤ کے بعد سامنے آیا، جس میں وائٹ ہاء وس پر زور دیا گیا تھا کہ وہ داعش کے خلاف جنگ میں مصروف عراق پر سفری پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کریں۔مذکورہ عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دیگر 6 مسلم ممالک ایران، لیبیا، صومالیہ، صوڈان، شام اور یمن پر سفری پابندیاں نئے حکم نامے میں بھی برقرار رہیں گی جبکہ یہ پابندی 90 دن کے لیے موثر ہوگی۔خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے حکم نامے میں مزید تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں، حکام کے مطابق 12 صفحات پر مشتمل دستاویز میں اب شامی پناہ گزینوں پر تا حکم ثانی پابندی عائد نہیں کی گئی بلکہ انہیں بھی دیگر پناہ گزینوں کی طرح 120 دن کے لیے امریکا میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔حکام نے مزید بتایا کہ حکم نامے میں کسی مذہبی اقلیت کے خلاف کوئی بات نہیں کی گئی، خیال رہے کہ اس سے قبل ناقدین نے انتظامیہ پر الزام عائد کیا تھا کہ حکم نامے میں شامل زبان سے ایسا لگ رہا تھا کہ امریکا میں عیسائی افراد کو تو داخلے کی اجازت ہے تاہم مسلمانوں پر پابندی ہے۔وائٹ ہاؤ س کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری کے اختتام میں سفری پابندیوں سے متعلق اپنے پہلے ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس پر دنیا بھر سے احتجاج اور ردعمل سامنے آیا تھا

۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے حکم نامے پر عمل کرتے ہوئے60 ہزار کے قریب قانونی ویزوں کو روک دیا تھا، جس کے بعد ریاست واشنگٹن کے وفاقی جج نے حکومت پر اس پابندی پر عملدرآمد پر پابندی عائد کردی تھی۔رواں ہفتے کانگریس کے مشترکہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے اپنے فیصلے کی حمایت کی اور کہا کہ وہ عنقریب اپنی قوم کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے نئے اقدامات اٹھائیں گے۔ٹرمپ کے پہلے ایگزیکٹو آرڈر کے سامنے آنے کے بعد عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے پابندی کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس حوالے سے متبادل اقدامات پر غور کریں گے۔کئی عراقی قانون سازوں نے حکومت کو تجویز دی تھی کہ وہ بھی جوابا امریکیوں کے عراق میں داخلے پر پابندی عائد کردیں

۔بعد ازاں عراقی وزیراعظم نے امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس سے بغداد میں ملاقات کی اور امریکا-عراق اتحاد پر بات چیت کی۔فروری میں حیدر العبادی امریکی نائب صدر سے ملے جہاں مشترکہ تعاون بڑھانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔خیال رہے کہ ٹرمپ امیگریشن آرڈر میں ہونے والی تبدیلی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی خفیہ رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں پابندی کا سامنا کرنے والے ساتوں مسلم ممالک کے خلاف ناکافی ثبوتوں کی موجودگی کا انکشاف کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…