جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

بھارت نے اپنی قبر خود ہی کھود لی،مقبوضہ کشمیر میں ایسا کام شروع کردیا کہ اب بچنا مشکل

datetime 5  اکتوبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سرینگر(این این آئی)بھارت نے اپنی قبر خود ہی کھود لی،مقبوضہ کشمیر میں ایسا کام شروع کردیا کہ اب بچنا مشکل، دھان کی فصل نذر آتش کرنا ، میوہ باغات کی لوٹ کھسوٹ اور بجلی ٹرانسفارمروں کو نقصان پہنچاناشروع کردیا،مقبوضہ کشمیر میں تحریک حریت جموں و کشمیر نے حریت پسند عوام پر بھارتی فورسز کے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کو دبانے کے لیے نت نئے حربے استعمال کررہا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تحریک حریت کے ترجمان نے سرینگرسے جاری ایک بیان میں کہا کہ ان کی تنظیم کے عہدیداروں اور ہزاروں حریت پسند نوجوانوں کو گرفتار کرکے وادی سے باہر کی جیلوں یا مقامی تھانوں میں نظربند کیا جارہاہے جہاں انہیں حیوانوں کی طرح رکھا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ پارٹی عہدیداروں کے ساتھ ان کے بچوں کوبھی گرفتار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاجی تحریک میں حصہ لینے والے تحریک حریت کے رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں کی توڑ پھوڑ کی گئی ہے اور جائیداد کو تہس نہس کیا گیا ہے جن میں محمد یوسف فلاحی، عبدالغنی بٹ، میر حفیظ اللہ، شیخ محمد رمضان اوردیگررہنما وکارکنان شامل ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ تحریک حریت کے متعدد رہنما وکارکنان مختلف جیلوں میں نظربند ہیں جن میں محمد اشرف صحرائی، پیر سیف اللہ، شاہ ولی محمد، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، محمد اشرف لایا، شاکر احمد میر، امتیاز حیدر، محمد یوسف لون، ادریس جان میر، غلام حسن ملک، حاجی غلام محمد میر، بشیر احمد بٹ، عبدالسبحان وانی، مفتی عبدالاحد، محمد شعبان خان، غلام محمد تانترے، نذیر احمد نائیکو، غلام مصطفیٰ وانی، امیر حمزہ ، رئیس احمد میر، ماسٹر علی محمد، سلمان یوسف، غلام محمد لون، عبدالحمید پرے، بشیر احمد راتھر، بشیر احمد خان، شکیل احمد بٹ، غلام محمد حرہ، عبدالحمید وانی، محمد ایوب خان، فیاض احمد، شکیل احمد یتو، محمد امین پرے، نذیر احمد مانتو، جاوید احمد فلے، محمد شفیع وگے اور دیگر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے غلام محمد تانترے، محمد شعبان خان، علی محمد ڈار اوردیگر کئی کارکنان کے بیٹے بھی جیلوں میں نظربند ہیں۔ تحریک حریت نے اشیائے خوردنی کو تباہ کرنے ، دھان کی فصل کو نذر آتش کرنے ، میوہ باغات کی لوٹ کھسوٹ کرنے اور بجلی ٹرانسفارمروں کو نقصان پہنچانے جیسے حربوں کو نمرودیت اور فسطائیت کی انتہا قرار دیا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…