منگل‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2026 

روس نے بالاخر جنگ کے میدان میں مکمل طورپر اترنے کا حتمی فیصلہ کرلیا،جنگی طیارے پہنچادیئے گئے،بڑے پیمانے پر نقل و حرکت

datetime 1  اکتوبر‬‮  2016 |

ماسکو (این این آئی)روسی اخبار نے ایک سینیر روسی فوجی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ روس کے جنگی طیارے ’سوخوی 24‘ اور ’سوخوی 34‘ شام کے اللاذقیہ شہر میں قائم حمیمیم فوجی اڈے پر پہنچا دیئے گئے ہیں روس کے ایک موقر اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ماسکو نے شام میں قائم اپنے ایک فوجی اڈے پر فوج اور اسلحے کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے۔ اور جلد ہی روس جنگی ہیلی کاپٹر شام پہنچا رہا ہے تاکہ شامی باغیوں کے خلاف جاری لڑائی کو مزید تیز کیا جاسکے۔روس کی جانب سے شام میں فضائی فورس میں اضافے کی کوششیں ایک ایسے وقت میں شروع کی ہیں جب امریکا اور دوسرے ملک شام میں جنگ بندی کی کوششیں کررہے ہیں۔ روس کی طرف سے فضائی فورس میں اضافے کے اقدامات سے جنگ بندی کی مساعی مزید خطرات سے دوچار ہوسکتی ہیں۔روسی اخبار نے ایک سینیر روسی فوجی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ روس کے جنگی طیارے ’سوخوی 24‘ اور ’سوخوی 34‘ شام کے اللاذقیہ شہر میں قائم حمیمیم فوجی اڈے پر پہنچا دیئے گئے ہیں۔ فوجی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر دو یا تین دن کے اندر اندر مزید فضائی فورس اور اسلحہ منگوایا جا سکتا ہے۔اخباری رپورٹ کے مطابق ’سوخوی 25‘ جیٹ طیارے کو بھی شام بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ان طیاروں کے عملے کا انتخاب کرلیا گیا ہے۔ فوجی قیادت کی طرف سے حکم ملتے ہی یہ جنگی طیارہ بھی شام روانہ کیا جاسکتا ہے۔خیال رہے کہ رواں سال مارچ میں روسی صدر ولادی میر پوتن نے شام میں روسی فوج کے زیراستعمال ’حمیمیم‘ فوجی اڈے سے جنگی طیارے اور فوج واپس بھجوانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے اس اعلان کے بعد شام میں جنگ بندی کے آثار سامنے آئے تھے مگر عملا روسی فوج نے شام میں بشارالاسد کے ساتھ مل کر بمباری کا سلسلہ بدستور جاری رکھا ہوا ہے۔دوسری جانب دعویٰ کیاگیا ہے کہ شام میں روس کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران دس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ روس کا اصرار ہے کہ وہ صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں بمباری کے دوران شہری علاقوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری نے بتایا کہ روسی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے تقریباً چار ہزار عام شہری تھے، جن میں بچوں کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ تھی۔ اس ادارے کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روسی فضائی حملوں میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے اٹھائیس سو جنگجو بھی مارے گئے جبکہ ہلاک ہونے والے اسد مخالف باغیوں کی تعداد بھی تقریباً اتنی ہی ہے، سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے روس پر تھرمائیٹ بم استعمال کرنے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ تھرمائیٹ بم میں المونیم پاؤڈر اور آئرن آکسائیڈ ملا ہوا ہوتا ہے، جس سے جسم جل جاتا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں بمباری کے دوران شہری علاقوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔اس تناظر میں روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا سخارووا نے ایک بیان میں کہاکہ آپ جتنی قیاس آرائیاں کرنا چاہتے ہیں، کر لیں۔ ہمارا ہدف بین الاقوامی دہشت گردی کا خاتمہ ہی ہے۔ ابھی ایک دن قبل ہی روسی حکام نے امریکا پر شام میں دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کا الزام عائد کیا تھا۔دریں اثناء امریکی صدر باراک اوباما اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جنگ زدہ ملک شام کے تباہ شدہ شہر حلب کے مشرقی حصے پر روسی فضائی حملوں اور بمباری کی مذمت کی ہے۔ دونوں لیڈروں نے روسی اور اسد حکومت کے فضائی حملوں کو کھلی بربریت قرار دیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ اوباما اور میرکل نے ان حملوں کی ذمہ داری روس اور شامی حکومت پر عائد کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان اس معاملے پر ٹیلی فون پر مکالمت جمعرات انتیس سمتبر کو ہوئی تھی۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے انتباہ کیا ہے کہ حلب پر حملوں کے تناظر میں شام کے بارے میں روس کے ساتھ مذاکراتی عمل ختم ہو سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…