بدھ‬‮ ، 01 اپریل‬‮ 2026 

’’امریکہ باز آ جائے‘‘ سعودی عرب نے امریکہ کو دو ٹوک انداز میں انتباہ کر دیا

datetime 30  ستمبر‬‮  2016 |

ریاض(آئی این پی)سعودی عرب نے امریکہ میں نائن الیون حملوں کے متاثرین کا سعودی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کرنے سے متعلق بل پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کانگریس کی جانب سے خود مختار استثنی کو ختم کرنے سے امریکہ سمیت تمام ممالک پر منفی اثر پڑے گا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ میں نائن الیون حملوں کے متاثرین کا سعودی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کرنے سے متعلق بل پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس کی جانب سے خود مختار استثنی کو ختم کرنے سے امریکہ سمیت تمام ممالک پر منفی اثر پڑے گا۔اس بل کی مدد سے 11 ستمبر ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ کو سعودی عرب کی حکومت پر مقدمہ دائر کرنے کا اختیار ملا تھا۔امریکی کانگریس نے بدھ کو متفقہ طور پر صدر براک اوباما کی جانب سے اس بل کو ویٹو کرنے کے فیصلے کو مسترد کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔اس بارے میں براک اوباما کا کہنا تھا اس بل پر ان کے ویٹو کو ختم کر کے پارلیمان کے فیصلے نے ایک ‘خطرناک مثال’ قائم کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس بل کو منظور کرنے سے صدر کی خود مختاری کے حق کا تصور ختم ہو جائے گا۔صدر اوباما نے بل کو ویٹو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس قانون سے سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات متاثر ہوں گے اور انھوں نے خبردار کیا تھا کہ افغانستان اور عراق جیسے ممالک میں امریکی افراد کو بھی ایسے مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔خیال رہے کہ نائن الیون کے حملے میں ملوث 19 ہائی جیکروں میں سے 15 کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ اس حملے میں تین ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ امریکہ کے قریبی اتحادی سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ ان حملوں میں ملوث نہیں تھا۔دریں اثنا امریکی کانگریس کے رپبلکن رہنماں کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون پر دوبارہ غور کرنا چاہتے ہیں۔امریکی سینیٹ میں رپبلکن جماعت کے رہنما مچ میکونل نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ قانون ساز اس حوالے سے آنے والی ممکنہ مشکلات کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر کوئی ممکنہ فائدہ اٹھانے والوں کے بارے میں جانتا تھا لیکن حقیقت میں کسی نے اس بارے میں نہیں سوچا کہ اس سے ہمارے بین الاقوامی تعلقات پر منفی اثر پڑے گا۔



کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…