منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

بھارت کا سعودی شہریوں بارے نیا انکشاف، سعودی عرب کا موقف بھی سامنے آ گیا

datetime 31  جولائی  2016 |

امپھال/نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوب مشرقی ریاست منی پور کی جیل میں قیدیوں کی آپسی لڑائی کے نتیجے میں2سعودی شہریوں سمیت 3قیدی ہلاک ہوگئے تاہم سعودی سفارتخانے نے شہریوں کی ہلاکت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی جیلوں میں کوئی سعودی قید نہیں ۔بھارتی میڈیا کے مطابق قیدیوں کی لڑائی کا واقعہ بھارت کی جنوبی مشرقی ریاست منی پور کے دارالحکومت امپھال کی سینٹرل جیل میں صبح سویرے پیش آیا۔منی پور پولیس کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پی ڈونگل کا صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دو سعودی قیدیوں نے ساتھی قیدی پر حملہ کرکے اسے ہلاک کیا، واقعے کا سن کر دیگر قیدیوں نے جوابی حملہ کیا جس کے نتیجے میں دونوں سعودی قیدی ہلاک ہوگئے۔لڑائی جھگڑے کے دوران ہلاک ہونے والے دوقیدیوں کی شناخت سعودی شہری سشاک یوسف احمد اور عبد السلام جبکہ تیسرے قیدی کی شناخت تھانگ مِلن زو کے نام سے ہوئی، جو منی پور کے ضلع چھوراچندرپور کا قبائلی تھا۔پی ڈونگل نے کہا کہ فوری طور پر لڑائی کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے،تینوں قیدیوں کا پوسٹ مارٹم کرلیا گیا ہے،ہم واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ قیدیوں نے ایک دوسرے پر حملے کے دوران کہیں کوئی ہتھیار تو استعمال نہیں کیا۔یاد رہے کہ قیدیوں کے درمیان لڑائی ختم کرانے کی کوشش کے دوران جیل کے دو محافظ اور ایک آفیسر زخمی بھی ہوئے۔دوسری جانب نئی دہلی میں سعودی سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ بھارت کی ایک جیل میں پیش آ نے والے پرتشدد واقعات میں سعودی شہریوں کی ہلاکت کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ سفارت خانے نے باور کرایا کہ بھارتی جیلوں میں کوئی سعودی شہری موجود نہیں۔سفارت خانے نے ٹوئیٹر پر جاری کیے گئے ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ بعض بھارتی ذرائع ابلاغ نے یہ بات رپورٹ کی ہے کہ ہفتے کے روز ریاست منی پور کے دارالحکومت امپھال کی سجیوا سینٹرل جیل میں قیدیوں کے درمیان ہونے والی لڑائی میں مارے جانے والوں میں سعودی عرب کے دو شہری بھی شامل ہیں۔ لہذا سعودی سفارت خانہ یہ واضح کرتا ہے کہ متعلقہ بھارتی حکام سے استفسار کے بعد معلوم ہوا ہے کہ یہ خبر درست نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کی جاتی ہے کہ الحمد للہ بھاریتی جیلوں میں کوئی سعودی شہری موجود نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…