پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

’’امریکہ سیدھا ہو جائے ۔۔ ورنہ‘‘ چین نے آخری وارننگ جاری کر دی

datetime 23  جولائی  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے 12جولائی کا سیاسی ٹریبونل کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے کیونکہ یہ تنازعہ ٹریبونل کے دائرہ سماعت میں نہیں آتا تھا ، فلپائن نے چین کی رضا مند ی کے بغیر یہ تنازعہ ثالثی ٹریبونل میں پیش کیا جو بین الاقوامی قوانین اور ثالثی اصولوں کی خلاف ورزی تھی ، اس لئے چین نے نہ تو سماعت کے عمل میں کوئی حصہ لیا اور نہ ہی فیصلہ قبول کیا ہے، ہمیں توقع ہے کہ فلپائن بھی سیدھے راستے پر آ جائے گا اور وہ دوطرفہ بات چیت کے ذریعے تنازعے کو حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ امریکہ بھی سیدھا راستہ اختیار کرے ، مسئلے کو ہوا دینے والے فوجی اقدامات سے گریز کرے ، سفارتی کوششوں کی کامیابی کیلئے سہولتیں فراہم کرے اور اس تنازعے کو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے کیلئے استعمال نہ کرے۔یہ امریکہ کیلئے آخری وارننگ ہے ورنہ حالات کی خرابی کا ذمہ دار امریکہ ہوگا۔یہ بات امریکہ میں چینی سفارتخانے کے ترجمان ڑو ہائی کوان نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونیوالے ایک مضمون کے جواب میں کہی ہے۔ترجمان نے واشنگٹن پوسٹ کے مضمون پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایڈیٹر کو ایک مکتو ب ارسال کیا ہے۔
مکتوب میں کہا گیا ہے کہ علاقائی تنازعات سمندری قانون کے بارے میں اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت ثالثی ٹریبونل کے دائرہ اختیارمیں نہیں آتے ، ثالثی ٹریبونل جہاز رانی اور سرحدی تنازعات کی سماعت کا اختیار نہیں رکھتا ، ثالثی ٹریبونل نے جنوبی بحیرہ چین کے بارے میں فیصلہ کر کے عالمی قوانین کو نقصان پہنچایا ہے اور اس سے ثالثی عمل کھلے طورپر مجروح ہوا ہے ، اس سے بین الاقوامی قانون کی اتھارٹی اور اثر بھی کم ہو گیا ہے ، چین نے ثالثی ٹریبونل کے فیصلے کو مسترد کر کے اپنے مفادات اور حقوق کا دفاع کیا ہے اور عالمی انصاف اور بین الاقوامی قانون کی حقیقی روح پر عملدر آمد کیا ہے۔ترجمان نے امریکہ کی طرف سے علاقے میں جنگی طیارے بھیجنے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور سفارتی بات چیت کاعمل کمزور ہوا ہے ۔
چین نے ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے پر امن طورپر مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین نے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ 14میں سے 12تنازعات کو پر امن مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا ہے اورہمیں توقع ہے کہ فلپائن بھی سیدھے راستے پر آ جائے گا اور وہ دوطرفہ بات چیت کے ذریعے تنازعے کو حل کرنے کی کوشش کرے گا۔انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ سیدھا راستہ اختیار کرے ، مسئلے کو ہوا دینے والے فوجی اقدامات سے گریز کرے ، سفارتی کوششوں کی کامیابی کیلئے سہولتیں فراہم کرے اور اس تنازعے کو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے کیلئے استعمال نہ کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…