منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

ہنگری میں سیاسی پناہ کے موجودہ قوانین کے خلاف اہم فیصلہ آگیا،جرمنی میں مقیم تارکین وطن کی امیدیں بحال

datetime 19  جولائی  2016 |

برلن(این این آئی)ایک جرمن عدالت نے کہاہے کہ ہنگری کے سیاسی پناہ سے متعلق موجودہ قوانین غیر معقول ہیں۔ ہنگری میں مہاجرین کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک جرمن صوبے باڈن وْرٹمبرگ کی ایک عدالت نے ہنگری میں سیاسی پناہ کے موجودہ قوانین کو ناجائز اور غیر انسانی قرار دیا ۔باڈن ورٹمبرگ کی انتظامی عدالت نے یہ بات ایک اٹھائیس سالہ شامی مہاجر کی جانب سے دائر کیے ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہی۔یہ شامی مہاجر 2014ء میں ہنگری کے راستے جرمنی پہنچا تھا۔ یورپی یونین کے ڈبلن قوانین کے مطابق کوئی بھی تارکِ وطن اسی ملک میں درخواست دے سکتا ہے جس کے ذریعے وہ یورپی یونین کی حدود میں داخل ہوا ہو۔ اسی ڈبلن قانون کے تحت اس شامی مہاجر کو بھی جرمنی سے ملک بدر کر کے ہنگری بھیج دیا جانا تھا۔جرمن حکام کی جانب سے ہنگری ملک بدر کیے جانے کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد اس شامی مہاجر نے انتظامی عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔ اس کی درخواست پر مختصر فیصلہ پانچ جولائی 2016ء کو سنایا گیا تھا۔ آج اٹھارہ جولائی بروز پیر باڈن ورٹمبرگ کی انتظامی عدالت کے جج نے اس فیصلے کی تفصیلات پڑھ کر سنائیں۔جرمن عدالت کے جج نے شامی مہاجر کو ڈبلن قوانین کے تحت ہنگری بھیجنے کا فیصلہ معطل کر دیا۔ کیس کا تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے جج کا کہنا تھا کہ جرمنی سے ملک بدر کر کے ہنگری بھیجنے جانے کی صورت میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہنگری میں اس شامی مہاجر کو ممکنہ طور پر گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جائے گا۔جرمن عدالت کے جج کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیاسی پناہ سے متعلق ہنگری کے موجودہ قوانین کو دیکھا جائے تو اس شامی مہاجر کی پناہ کی درخواست پر ایک غیر جانبدار اور انصاف پر مبنی فیصلہ سنائے جانے کے امکانات بھی نہایت کم ہیں۔عدالت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگرچہ عدالت نے یہ فیصلہ صرف ایک شامی مہاجر کی جانب سے دائر کردہ مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے سنایا ہے لیکن اس فیصلے کے اثرات اس نوعیت کے موجودہ اور آئندہ دائر کیے جانے والی درخواستوں پر بھی پڑ سکتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…