جمعہ‬‮ ، 19 جون‬‮ 2026 

اسرائیل،قیدیوں کو جبری خوراک دینے کا قانون منظور

datetime 16  جون‬‮  2015 |

مقبوضہ بیت المقدس (نیوزڈیسک)اسرائیلی حکومت نے ایک سال قبل غیر فعال کیے گئے قیدیوں کو جبری خوراک دینے کے قانون کی دوبارہ منظوری دے دی ، بھوک ہڑتالی قیدی کو جبرا خوراک دی جاسکے گی،انسانی حقوق کی تنظیموں اور طبی ماہرین نے اسرائیل کے جبری خوراک دینے کے قانون کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ظالمانہ قانون قرار دیا۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی داخلی سلامتی کے وزیر گیلاد اردن نے کہا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کی جانب سے بھوک ہڑتالیں کرنا اسرائیل کے لیے خطرے کا باعث ہے اس لیے ہم نے ایک ایسے قانون کی منظوری دی ہے جس کی رو سے ہراس قیدی کو جبری خوراک دی جاسکے گی جو اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر اسرائیل کے لیے مشکلات پیدا کررہا ہے۔اسرائیلی وزیر نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ “فیس بک” کے اپنے خصوصی صفحے پر لکھا کہ “اسرائیل کے بائیکاٹ کی مہمات، اسرائیل کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنا اور قیدیوں کی بھوک ہڑتالیں اسرائیل کو خطرے میں ڈالنے کے مختلف طریقے ہیں۔خیال رہے کہ جون 2014 میں فلسطینی اسیران نے اجتماعی بھوک ہڑتال شروع کی تھی جس کے باعث 80 اسیران کی حالت بری طرح بگڑ گئی تھی اور انہیں اسپتال منتقل کرنا پڑا تھا۔ اس وقت فلسطینیوں کی بھوک ہڑتال کو ختم کرنے کے لیے ایک متنازعہ قانون پیش کیا گیا جسے پہلی، دوسری اور تیسری رائے شماری کے بعد منظوری کیا گیا تھا۔

مزید پڑھئے:بچوں میں درد کی شدت ناپنے والا سافٹ ویئرتیار

اس قانون کے تحت جیل انتظامیہ کو بھوک ہڑتالی اسیران کو جبری خوراک دینے کا اختیاردیا گیا تھا۔ اگرچہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید کے بعد اس قانون کو غیرفعال کردیا گیا تھا۔ کابینہ کی جانب سے منظوری کے بعد مسودہ قانون کو دوبارہ رائے شماری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے قیدیوں کو جبرک خوراک دینے کے قانون کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اسرائیل میں قائم “میڈیکل لیگ” کے چیئرمین ڈاکٹر لیونیڈ ایڈلمن نے کہا کہ “قیدیوں کو بزور خوراک دینا طبی اخلاقیات کے منافی اقدام ہے اور دنیا میں کہیں بھی قیدیوں کو جبری خوراک دینے کا کوئی تصور نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…