منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

انگلستان: اُ لوﺅں کی دہشت کاشکار

datetime 3  مارچ‬‮  2015 |

انگلستان(نیوز ڈیسک) کوٹسولڈ کے رہائشی ان دنوں دہشت میں مبتلا ہیں۔ اس دہشت کا سبب نہ تو القاعدہ ہے، نہ ہی طالبان اور نہ ہی داعش، بلکہ ایک الّو نے انھیں خوف زدہ کر رکھا ہے! شبینہ پرندہ رات کی تاریکی میں گھر سے تنہا باہر نکلنے والے لوگوں پر حملہ آور ہوتا ہے۔

قائد اعظم‘ قائداعظم ہیں یا (نعوذ باللہ) صحابی‘آزاد کشمیر کے مشیر راجہ ساجد نے قائد اعظم کو صحابی بنا دیا

 

اب تک کئی افراد اس کا نشانہ بن چکے ہیں۔برطانوی کاﺅنٹی میں دہشت کی علامت بن جانے والا الوالوﺅں کی اس قسم سے تعلق رکھتا ہے جو ” عقابی الو“ ( Eagle owl) کہلاتی ہے۔ اس نسل سے تعلق رکھنے والے الو غیرمعمولی طور پر بڑے ہوتے ہیں۔ اس الّو کے پروں کا پھیلاﺅساڑھے پانچ فٹ ہے، پنجے تیزدھار ہیں جو نشتر کی طرح شکار کی جلد میں اترجاتے ہیں۔عقابی الو یورپ میں عام پائے جاتے ہیں مگر برطانیہ کے جنگلات میں ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے البتہ گھروں میں یہ ضرور پالے جاتے ہیں۔

دنیا کے بہترین’ لڑاکوں’ نے ہمیشہ جوان رہنے کے لیے بہترین نسخہ بتا دیا

 

الو پالنے کا رواج برطانیہ میں کئی صدی پہلے شروع ہوا تھا۔ آج بھی کئی ہزار لوگوں کا روزگار اس کاروبار سے وابستہ ہے۔رائل سوسائٹی فار پروٹیکشن آف برڈز کے مطابق ہر سال درجنوں پالتو الّو ’ فرار ‘ ہوجاتے ہیں۔غالب امکان ہے کہ یہ الّو بھی کسی ’ گھر سے بھاگا ‘ ہوا ہے۔ اس نے بیشتر حملے کوٹسولڈ کے علاقے Synwell میں کیے ہیں۔ اسی لیے لوگوں نے اسے Synwell کا نام دے دیا ہے۔اسکا نشانہ بننے والوں میں ہر عمر کے لوگ شامل ہیں۔ 70 سالہ ٹیک سو ڈن ریٹائرڈ نرس ہے۔ چند روز پہلے وہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانک رہی تھی جب اس کی نظر قریب ہی لگے ہوئے بجلی کے کھمبے پر پڑی۔ کھمبے پر وہی جسیم ا±لّو بیٹھا ہوا تھا جس نے علاقے میں دہشت پھیلا رکھی ہے۔ ٹیک کے دل میں الو کی تصویر کھینچنے کا شوق چرایا۔ چناں چہ وہ کیمرا اور ٹارچ اٹھائے گھر سے باہر آگئی۔ بوڑھی عورت نے ٹارچ کی روشنی الو پر ڈالی۔الو کو غالباً اس کی یہ ’جسارت‘ پسند نہیں آئی۔ وہ کریہہ آواز نکالتے ہوئے اس کی جانب لپکا۔

وہ ایئرلائن کمپنی جسے 25روپے میں فروخت کیا گیااور آج۔۔۔

 

قوی الجثہ پرندے کو اپنی طرف آتے دیکھ کر ریٹائرڈ نرس خوف زدہ ہوگئی اور واپس دروازے کی جانب دوڑی۔ اچانک اس کا پاو¿ں پھسلا اور وہ منہ کے بل زمین پر آرہی۔ گرتے ہوئے ٹیک کا بازو سیڑھی کے قدمچے سے ٹکرایا اورکلائی ٹوٹ گئی۔چوہتر سالہ مارگریٹ سڑک پر جارہی تھی جب الو اس پر حملہ آور ہوا۔ اس کے تیز ناخنوں نے بوڑھی عورت کے سر کی کھال ا±دھیڑ ڈالی تھی۔ مارگریٹ کی چیچ و پکار پر دو افراد دوڑتے ہوئے آئے۔ ان کی آمد پر حملہ آور پرندہ’ رفوچکر‘ ہوگیا۔ مارگریٹ کے چھیاسٹھ سالہ شوہر رابرٹ کو الو نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ رات کے کھانے کے بعد گھر کے باہر چہل قدمی کر رہا تھا۔ خوش قسمتی سے رابرٹ اس کے پنجوں کی زد میں آنے سے محفوظ رہا تھا۔ رابرٹ کا کہنا ہے کہ الو کے حملے کے بعد اس کی بیوی اتنی خوف زدہ ہوگئی ہے اس نے گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیا ہے۔ٹیک، مارگریٹ اور رابرٹ کی طرح کئی اور لوگ بھی Synwell کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اپنی خونخواری کے باوجود یہ الو کچھ مقامی لوگوں میں اتنا مقبول ہوگیا ہے کہ انھوں نے فیس ب±ک پر اس کا پیج بنا ڈالا ہے۔اس کے فالوورز کی تعداد پانچ سو تک پہنچ گئی ہے۔ فیس ب±ک کے علاوہ ٹویٹر پر بھی اس کے بارے میں باقاعدگی سے ٹویٹ کی جارہی ہیں۔پرندوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہSynwell لوگوں پر حملہ آور نہیں ہورہا۔ انٹرنیشنل سینٹر فار برڈز کی اہل کار جمائما پیری جونز کے مطابق انسان کی قید میں رہنے والے پرندوں کو ان سے انسیت ہوجاتی ہے، اسی لیے وہ ان کی طرف بڑھتے ہیں۔ Synwell کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔

“جو میرے لئے دروازہ کھولے گی”

 

وہ حملہ آور نہیں ہوتا بلکہ انسانوں سے مانوس ہونے کی وجہ سے ان کی طرف بڑھتا ہے، تاہم چوں کہ وہ ایک جسیم پرندہ ہے اور اس کے پنجے نوکیلے اور خطرناک ہیں جو زخمی کردیتے ہیں، اس لیے لوگ Synwell کے ’ انداز محبت‘ کو حملہ سمجھ لیتے ہیں۔بہرحال وجہ جو کچھ بھی ہو کوٹسولڈ میں اس پرندے کی وجہ سے خوف و دہشت کی فضا قائم ہوچکی ہے اور لوگ شام کے بعد گھروں سے باہر نکلتے ہوئے ڈرنے لگے ہیں۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…