پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

خالص شہد کی پہچان کا طریقہ جو آپ کو آج تک کسی نے نہیں بتایا ہوگا‎

datetime 24  ستمبر‬‮  2017 |

لندن(نیوزڈیسک )عوام کی اکثریت شہد کے اصلی یا نقلی ہونے کی پہچان ہی نہیں رکھتی،اورآج کل مارکیٹ اور بازاروں میں جعلی اور دونمبر شہد کی فروخت دھڑلے سے جاری ہے، ہم آپ کو خالص شہد کی پہچان کے چند طریقے بتائے دیتے ہیں۔ ٭ایک گلاس میں پانی لے کر شہد سے بھرا چمچ اس میں ڈال دیں، اگر شہد خالص ہوا تو یہ پانی میں حل نہیں ہوگا، اگر خالص نہ ہوا تو حل ہو جائے گا، کیوں کہ مارکیٹ میں ملنے والے اکثر شہد گڑ سے بنائے جا رہے ہیں۔

٭سب سے پہلے شہد کی بوتل پر لگے لیبل کو چیک‎کریں، جس پر اجزائے ترکیبی درج ہوں۔ شہد بنانے والی کمپنی کی طرف سے ایمانداری کے ساتھ اجزائے ترکیبی کا اندراج قانونی اور اخلاقی طور پر لازم ہے۔ ان اجزاءمیں اگر additives یعنی ایسے مادے جو تیل میں اس لئے ملائے جاتے ہیں کہ اس میں کوئی غیرمعمولی خصوصیت پیدا ہو جائے، نہ ہو تو بے فکر ہو کر یہ شہد خرید لیں۔ ٭ موم بتی میں موجود کاٹن کی بتی کو شہد میں بھگو کر ایکبار جھٹک دیں اور بعدازاں لائٹر سے اسے آگ لگانے کی کوشش کریں۔ اگر اس بتی میں آگ لگ گئی تو سمجھ لیں کہ یہ خالص شہد ہے۔ ٭ شہد کے چند قطرے جذب کرنے والے کاغذ پر پر ٹپکا دیں، اگر یہ کاغذ قطروں کو جذب کرگیا تو اس کا مطلب ہے کہ یہ شہد خالص نہیں ہے۔ اگر آپ کے پاس جذب کرنے والا کاغذ نہیں ہے تو اس کے لئے آپ سفید کپڑا بھی استعمال کر سکتے، اس کپڑے پر شہد کے چند قطرے گرا کر تھوڑی دیر انہیں دھو لیں اگر تو کپڑے پر دھبے کا نشان رہ جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ شہد خالص نہیں ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…