منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

آٹھ ماہ کے شیر خوار پاکستانی بچے رایان نے اپنی بہن کی جان بچانے کیلئے کیا چیز عطیہ کر دی

datetime 18  دسمبر‬‮  2016 |

بینگالورو(این این آئی)پاکستان سے تعلق رکھنے والا آٹھ ماہ کا شیر خوار بچہ رایان ہڈیوں کا گودا عطیہ کرکے اپنی بڑی بہن کی جان بچانے والا بھارت کا سب سے کم عمر ڈونر بن گیا۔آیان کی دو سالہ بہن زینیا انوکھی بیماری ہیمافاگوسائٹک لیمفوہسٹیوسائٹوسز (ایچ ایل ایچ) کا شکار تھی اور اس کا بون میرو غیر معمولی خلیات پیدا کر رہا تھا جو میرو کے نارمل خلیات کو نقصان پہنچا رہے تھے جس کا واحد علاج بون میرو ٹرانسپلانٹ تھا۔کامیاب آپریشن کے دو ماہ بعد اب دونوں بھائی بہن تیزی سے روبصحت ہورہے ہیں اور جلد اپنے والدین کے ہمراہ آبائی شہر ساہیوال آجائیں گے۔زینیا میں 11 ماہ کی عمر تک یہ بیماری ظاہر نہیں ہوئی تھی تاہم پھر اسے اچانک تیز بخار رہنے لگا جس کا علان اینٹی بائیوٹکس سے بھی ممکن نہ ہوا۔
تفصیلی طبی معائنے کے بعد زینیا کو ہڈیوں کے گودے کی بیماری لاحق ہونے کی تشخیص ہوئی جو اس کے لیے جان لیوا بھی ہوسکتی تھی۔زینیا میں پیدائش کے وقت سے جزوی برصیت کی بھی تشخیص ہوئی تھی۔زینیا کے والد ضیا اللہ نے بتایا کہ پہلے ہمیں بتایا گیا کہ اس مرض کا علاج ممکن نہیں جس کے بعد ہم ناامید ہوچکے تھے تاہم پھر ہمیں ایسے ہی ایک کیس کا نرایانا ہیلتھ سٹی (این ایچ سی) میں علاج کا پتہ چلا، ہم اس بات پر انتہائی خوش ہیں کہ ہم بھارت آکر اپنی بیٹی کا کامیاب علاج کراسکے جس پر ہم ڈاکٹروں کی پوری ٹیم کے شکر گزار ہیں ٗہسپتال داخل کرائے جانے کے بعد پہلے زینیا کی حالت کو مستحکم کیا گیا جس کے بعد مختلف ٹیسٹ کے ذریعے پتہ چلا کہ ان کے آٹھ ماہ کے بھائی کا ایچ ایل اے ان سے پوری طرح مماثلت رکھتا ہے تاہم رایان کی عمر انتہائی کم ہونے کے باعث ڈاکٹروں کیلئے یہ آپریشن انتہائی پیچیدہ تھا۔
سینئر کنسلٹنٹ اور ہسپتال میں پیڈیاٹرک ہیماٹولوجی، آنکولوجی اینڈ بون میرو ٹرانسپلانٹ کے سربراہ ڈاکٹر سنیل بھٹ نے کہا کہ ڈونر کے اعتبار سے یہ کیس انتہائی مشکل تھا اور چونکہ ڈونر ایک 8 ماہ کا شیر خوار بچہ تھا اس لیے ہمیں آپریشن کو اس کی پیچیدگی کے باعث دو مراحل میں مکمل کرنا پڑا۔انہوں نے کہاکہ رایان نے بون میرو عطیہ کرکے ناصرف اپنی بہن کی جان بچائی بلکہ وہ بھارت کا سب سے کم عمر ڈونر بھی بن گیا ۔
این ایچ سی میں سینئر کنسلٹنٹ ہیماٹولوجسٹ اینڈ کلینیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر شَرت دامودر نے کہا کہ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ ہم ناصرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک سے آنے والے متعدد مریضوں کے علاج کی صلاحیت رکھتے ہیں۔زینیا کے والد ضیا اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان واپس پہنچ کر ہم ایک آن لائن پیج کے آغاز کا سوچ رہے ہیں جہاں ہم اپنی کہانی لوگوں سے شیئر کریں گے، تاکہ پاکستان میں لوگوں میں اس بیماری اور اس کے ممکنہ علاج سے متعلق آگاہی پیدا ہوسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…