نیویارک (نیوز ڈیسک)عالمی ادار ہ صحت ( ڈبلیو ایچ او )نے زکا وائرس کے ’’خطرناک‘‘ حد تک پھیل جانے کے پیش نظر ایک ’ہنگامی ٹیم‘ تشکیل دے دی ہے۔امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ براعظم جنوبی امریکہ میں زکا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 30 سے 40 لاکھ تک ہو سکتی ہے۔برازیل میں وکلا، حقوقِ انسانی کے کارکنوں اور سائنسدانوں نے زِکا وائرس سے متاثرہ خواتین کو اسقاطِ حمل کی اجازت دلوانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ڈبلیو ایچ او کی ڈائریکٹر ڈاکٹر مارگریٹ چین کا کہنا ہے کہ ’زکا وائرس معمولی خطرے سے ہنگامی صورتحال تک پہنچ گیا ہے اور اس کے دل دہلا دینے والے اثرات ہیں۔ڈاکٹر چین نے متنبہ کیا ہے کہ ’صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے کیونکہ رواں سال ال نینیو موسمی تغیرات کے وجہ سے کئی علاقوں میں مچھروں کی تعداد میں اضافہ
ہو سکتا ہے۔پیر کو اس ہنگامی ٹیم کی ملاقات میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا زکا وائرس کو عالمی سطح پر خطرے کے طور پر دیکھا جائے یا نہیں۔خیال رہے کہ اس قبل عالمی سطح پر ہنگامی صورتحال کا اعلان مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس کے پھیلنے کے بعد کیا گیا تھا۔ ایبولا وائرس کے نتیجے میں 11 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔زکا وائرس کے بارے میں سب سے پہلے یوگینڈا میں سنہ 1947 میں معلوم ہوا تھا لیکن یہ وائرس اس سے قبل کبھی بھی اس حد تک نہیں پھیلا تھا۔مچھروں کی وجہ سے پھیلنے والا یہ وائرس جنوبی امریکی خطے کے 20 ممالک میں اب تک پھیل چکا ہے تاہم برازیل اس وقت خطے میں اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔برازیل نے زکا وائرس کا پہلا کیس جنوبی امریکہ میں مئی 2015 میں رپورٹ کیا تھا۔اس وائرس سے متاثرہ بہت سے افراد میں کوئی علامات نہیں دیکھی گئیں اسی لیے اس کا ٹیسٹ کرنا مشکل ہے۔ تاہم ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ برازیل میں ایک اندازے کے مطابق پانچ سے 15 لاکھ افراد متاثر ہیں۔اسی دوران برازیل میں مائکرو سفیلے سے متاثرہ بچوں کی پیدائش میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ برازیلی وزارتِ صحت نے اس بیماری کی وجہ سے غیر معمولی طور پر چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش کے 270 واقعات کی تصدیق کی ہے جبکہ ایسے 3448 واقعات کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔اس وائرس اور غیر معمولی بیماری کے آپس میں تعلق کی تصدیق تو نہیں ہوئی ہے تاہم ڈاکٹر چین کا
نے کہا ہے کہ ’یہ کافی حد تک ممکن ہو سکتا ہے اور کافی خطرناک ہے۔بی بی سی کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ برازیلی سپریم کورٹ میں آنے والے دو ماہ کے دوران یہ درخواست جمع کروائی جائے گی جس میں کہا جائے گا کہ ’زکا وائرس پھیلنے کی ذمہ دار برازیلی حکومت ہے جس نے یہ بیماری پھیلانے والے مخصوص مچھروں کے خاتمے کے لیے اقدامات نہیں کیے۔درخواست میں کہا جائے گا کہ برازیلی خواتین کو ’ناقص پالیسیوں کے نتائج بھگتنے کی سزا نہیں دی جانی چاہیے۔سپریم کورٹ سے رجوع کرنے والا گروپ وہی ہے جس نے 2012 میں پیدا ہونے والے بچے میں دماغی بیماری انینسیفیلے کے خطرے کی صورت میں بھی اسقاط کی اجازت حاصل کی تھی۔برازیل میں اسقاطِ حمل غیرقانونی عمل ہے تاہم طبی پیچیدگیوں یا جنسی زیادتی کا شکار خواتین کو اس کی اجازت ہے۔
زِکا وائرس سے 40 لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
Pale Blue Dot
-
اپنا گھر بنانا اب بہت آسان ہوگیا، حکومت نے اہم قدم اٹھالیا
-
عوام ہو شیا ر ہے! آندھی ، بارشوں اور ژالہ باری کا الرٹ جاری
-
ملک بھر میں 25 اور 26 جون کو تعطیل کا امکان
-
چینی کا استعمال مکمل ختم کرنے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟تحقیق میں حیران کن انکشافات
-
امریکا ایران ڈیل، تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی
-
آسٹریلیاکا ریکارڈ ٹوٹ گیا،سعودی عرب کی دنیا کی سب سے لمبی سیدھی سڑک
-
ایک ساتھ 4 تعطیلات، سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خبر آگئی
-
سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں اچانک بڑا اضافہ
-
کسانوں کیلئے خوشخبری حکومت نے بڑا اعلان کردیا
-
چکوال،آسٹریلوی خاندان پر سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق 9 سالہ بجی کے مقدمے میں اہم پیشرفت
-
زلزلہ کے جھٹکے،لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا
-
یکم جولائی سے کون کتنا ٹیکس ادا کرے گا ؟ اعدادوشمار سامنے آگئے
-
تنخواہ وقت پر نہ ملے تو ملازم کیا کرے؟ سعودی حکومت نے بتا دیا



















































