جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

آذربائیجان حکومت نے امریکی امداد سے چلنے والے ریڈیو شیٹشن کو چھاپہ مار کر بند کردیا

datetime 27  دسمبر‬‮  2014 |

باکو۔۔۔۔آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں پولیس نے امریکی امداد سے چلنے والے ریڈیو شیٹشن آزادلق پر چھاپہ مارا ہے اور ریڈیو کو بند کر دیا ہے۔ایک حکومتی اہلکار نے کہا ہے کہ ریڈیو سیٹیشن پر چھاپہ ایک ’سنگین جرم‘ کی تفتیش کے سلسلے میں مارا گیا ہے۔ریڈیو فری یورپ ، ریڈیو لبرٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلح پولیس اہلکاروں نے آذربائیجانی ریڈیو آزادلق دفتر پر چھاپہ مارا اور صحافیوں کو بلڈنگ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ریڈیو سٹیشن پر چھاپہ ایسے وقت میں مارا گیا ہے جب آذربائیجانی حکومت صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر گھیرا تنگ کر رہی ہے۔ پولیس ریڈیو آزادلق کی ایک تحقیقاتی خاتون رپورٹر خدیجہ اسماعیلوف کو حراست میں لے رکھا ہے۔ریڈیو آزادلق کے ڈائریکٹر سٹیشن نیخبر رساں ادارے اے ایف کو بتایا ہے کہ مسلح پولیس نے جعمہ کے روز ریڈیو شٹیشن کو بند کر دیا ہے۔ ’ہمارے آلات اور کمپیوٹروں کو ضبط کیا جا رہا ہے اور ہمارے صحافیوں کو دفتر سے نکل جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔‘ریڈیو فری یورپ کی جانب سے ایک ویڈیو کو ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا ہے جس میں پولیس اہلکاروں اور سرکاری وکلا کو فائلوں اور فولڈروں کو اپنے قبضے میں لیتے دیکھا جا سکتا ہے۔پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کو بتایا کہ ریڈیو سٹیشن پر ایک ’سنگین جرم‘ کی تفتیش کے سلسلے میں چھاپہ مارا گیا ہے۔ البتہ پراسیکیوٹر نے ’سنگین جرم‘ کے بارے میں معلومات دینے سے انکار کیا۔خدیجہ اسماعیلوف پر الزام ہے کہ وہ اپنے ریڈیو پروگراموں میں لوگوں کو خودکشی پر مائل کرتی تھیں۔آذربائیجانی صدر الہام علیوف کے ترجمان نے ریڈیو آزادلق کی رپورٹر کی گرفتاری کے وقت الزام عائد کیا تھا کہ ریڈیو سٹیشن ایک غیر ملکی سیکرٹ سروس کے لیے کام کر رہا ہے۔۔ آذربائیجانی پولیس نے ریڈیو آزادلق کی تحقیقاتی رپورٹر خدیجہ اسماعیلوف کو دسمبر کے اوئل میں گرفتار کیا تھا اور وہ اب بھی پولیس کی تحویل میں ہیں۔ خدیجہ اسماعیلوف کے خلاف ابھی تک کوئی باضابطہ مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔خدیجہ اسماعیلوف پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے ریڈیو پروگراموں میں لوگوں کو خود کشی کرنے کی ترغیب دیتی تھیں۔حالیہ مہینوں میں آذربائیجانی حکومت پر صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر دباؤ ڈالنیکے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔
صدر الہام علیوف 2013 میں تیسری بار صدر منتخب ہوئے تھے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ان کے انتخاب کو غیر جمہوری اور مکمل فراڈ قرار دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…