اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

افغانستان کبھی بھی دوبارہ دہشت گرد حملوں کا ذریعہ نہیں بنے گا،اوباما

datetime 27  دسمبر‬‮  2014 |

واشنگٹن۔۔۔۔ امریکی صدر بارک اوباما نے کرسمس پر اپنی فوج کے نام پیغام میں کہا کہ امریکا، افغانستان میں اپنی جنگی مہم اگلے ہفتے ختم کر دے گا۔صدر نے فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیوں کی وجہ سے اب افغانستان کبھی بھی دوبارہ دہشت گرد حملوں کا ذریعہ نہیں بنے گا۔’ہم گزشتہ 13 سال سے زائد مدت سے حالت جنگ میں ہیں، اگلے ہفتے ہم افغانستان میں اپنی جنگی مہم ختم کر رہے ہیں‘۔انہوں نے امریکی ریاست ہوائی میں اپنے خطاب کے دوران فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام اپ کی شکر گزار اور اپ کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولے گی۔اوباما نے تالیوں کی گونج میں کہا کہ امریکی مسلح افواج میں موجود مرد و خواتین کی غیرمعمولی خدمات کے باعث افغانستان کے پاس ا?ج موقع ہے کہ وہ اپنی ازسر نو تعمیر کر سکیں۔انہوں نے افغانستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم محفوظ ہیں، اب یہ دوبارہ دہشت گرد حملوں کا ذریعہ نہیں بنے گا‘۔دو جنوری سے افغانستان میں امریکی فوج کا کردار تبدیل ہو جائے گا جہاں وہ طالبان شدت پسندوں سے براہ راست جنگ کے بجائے طالبان سے نمٹنے کے لیے افغان فوجیوں کو تربیت فراہم کریں گے۔امریکا میں ستمبر 2011 کو ہونے والے دہشت گرد حملے کے فوراً بعد امریکا نے افغانستان پر چڑھائی کرتے ہوئے جنگی مہم شروع کردی تھی۔13 سال سے زائد مدت تک جاری رہنے والے اس جنگ میں دو ہزار 200 امریکی فوجی ہلاک جبکہ امریکا نے ایک ہزار ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے۔اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی تعمیر نو اور افغان دفاعی افواج کی مدد پر 100 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے۔اوباما کی جانب سے جنگی دور کے اختتام پر فوجیوں نے جشن منایا تاہم ساتھ ساتھ امریکی صدر نے واضح کیا کہ ابھی بھی دنیا میں ایسی جگہیں جہاں ان کی خدمات درکار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…