جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پشاور جیسہ سانحہ ہونے کا خدشہ بڑھنے لگا، مگر پاکستان میں نہیں توپھر کہاں؟

datetime 26  دسمبر‬‮  2014 |

واشنگٹن: امریکا کے ایک سینیئر سینیٹر نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل قریب میں افغانستان میں بھی پشاور جیسا ہولناک واقعہ پیش آ سکتا ہے۔

ری پبلکن پارٹی کےسابق صدارتی امیدوار اور سینیٹ کی مسلح سروسز کمیٹی کے ممکنہ چیئرمین مک کین نے فاکس نیوز کو بتایا کہ 31 دسمبر تک افغانستان سے اپنے فوجی نکالنے کے امریکی منصوبے کے بعد طالبان کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔

سینیٹر جان مک کین نےکہا کہ’ہم دوبارہ وہی فلم دیکھنے جا رہے ہیں جو عراق میں دیکھی تھی’۔

یاد رہے کہ2011 میں عراق سے امریکا کے جانے پرمذہبی عسکریت پسند دوبارہ ابھرے اور انھوں نے شام میں فساد برپا کیا۔

تاہم اوباما انتظامیہ پرامید ہے کہ امریکی افواج کے افغانستان سے جانے کے بعد مقامی سیکورٹی فورسز، عسکریت پسندوں سے موثر انداز میں نمٹیں گی۔

افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ کرسمس منانے والے سینیٹر مک کین نے خبر دار کیا کہ سانحہ پشاور سے طالبان کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور وہ افغانستان میں بھی ‘اس قسم کے مزید ہولناک’ حملے کر سکتے ہیں۔

انہوں نے اوباما انتظامیہ پر زور دیا کہ اس طرح کے کسی واقعہ سے بچنے کے لیے وہ افغانستان میں طے شدہ منصوبے سے زیادہ فوج تعینات کرے۔

ادھر، واشنگٹن میں امریکی حکام نے بتایا کہ سانحہ پشاور کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات پر طالبان خاص طور پر مایوس ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق افغان اور پاکستان کے فوجی حکام نے طالبان کے خلاف نئی شراکت داری قائم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…