جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بحرِ اوقیانوس کو بحرالکاہل سے ملانے والی دنیا کی سب سے بڑی نہر پر کام شروع

datetime 23  دسمبر‬‮  2014 |

لندن۔۔۔۔وسطی امریکہ کے ملک نکاراگوا میں اس نئی نہر پر کام شروع ہوگیا ہے جو بحرِ اوقیانوس کو بحرالکاہل سے ملائے گی۔یہ نہر ایک چینی کمپنی تعمیر کرے گی اور کام کے آغاز پر کمپنی کے سربراہ وانگ جنگ کا کہنا ہے کہ یہ لمحہ تاریخ میں رقم ہوگیا ہے۔یہ 278 کلومیٹر طویل نہر طوالت،گہرائی اور چوڑائی میں نہر پانامہ سے بڑی ہوگی جو پہلے ہی ان دونوں سمندروں کو جوڑتی ہے۔اس نہر کو ’گرینڈ کینال آف نکاراگوا‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کا مقصد لاطینی امریکہ کے اس غریب ترین ملک کی اقتصادی حالت میں بہتری لانا ہے۔تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ماحولیات پر پڑنے والے منفی اثرات اس سے حاصل ہونے والے اقتصادی فوائد سے کہیں زیادہ ہوں گے۔نہر کی کھدائی کے آغاز کی تقریب بہت حد تک علامتی تھی کیونکہ اس تقریب میں اس سڑک کی تعمیر کا افتتاح شروع کیا گیا جس کی مدد سے مشینری بندرگاہ تک پہنچائی جائے گی۔اس موقع پر ملک کے نائب صدر عمر ہیلسلیونز کا کہنا تھا کہ یہ نہر نکاراگوا کی تاریخ کے ساتھ ساتھ معاشی حالت بھی بدل ڈالے گی۔تاہم اس نہر کے خلاف نکاراگوا میں مظاہرے اور احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔انھوں نے کہا کہ نہر کی تعمیر کے بعد دنیا میں سمندر کے راستے ہونے والی تجارت کا پانچ فیصد سامان اس نہر سے گزرے گا جس سے ملک کی آمدن میں اضافہ ہوگا۔نہر تعمیر کرنے والی چینی کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ پانچ برس میں یہ منصوبہ مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور یہ نہر 2020 میں آپریشنل ہو جائے گی۔کمپنی کے مطابق اس منصوبے پر 50 ارب ڈالر لاگت آئے گی اور اس میں دو بندرگاہوں، ایک ہوائی اڈے، ایک تفریح گاہ اور ایک اقتصادی زون کی تعمیر بھی شامل ہے۔تاہمنکاراگوا میں اس نہر کے خلاف مظاہرے اور احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔اس کے مخالفین نے اس منصوبے کے نکاراگوا جھیل اور اس علاقے میں رہائش پذیر غریب افراد کے حوالے سے بھی تحفظات ظاہر کیے ہیں۔یہ نہر اس جھیل سے گزرے گی جو علاقے میں میٹھے پانی کی فراہمی کا مرکزی ذریعہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…