جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

آخر مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی اعتراف کر ہی لیا، کلک کر کے آپ بھی جانیں

datetime 23  دسمبر‬‮  2014 |

سری نگر۔۔۔۔مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اعتراف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی انتخابات کسی بھی طرح عوام کے حق خود ارادیت کا متبادل نہیں ہوسکتے۔سری نگر میں بحیثیت وزیراعلیٰ اپنی آخری پریس کانفرنس کے دوران عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے ریاستی انتخابات کو پاک بھارت تعلقات یا مسئلہ کشمیر سے جوڑنا غلط ہے۔ یہ کسی بھی طرح حق خود ارادیت کا متبادل نہیں ہوسکتے۔ انتخابات کا مقصد صرف اور صرف وادی کے عوام کو بہتر انتظامیہ فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی ان انتخابات کا دوسرا جواز پیش کرتا ہے تو وہ سراسر غلط ہے، اس سے آئندہ انتخابات کے لئے بھی مسائل پیدا ہوں گے۔عمرعبداللہ کا کہنا تھا کہ گو بھارت اور مقبوضہ ریاست کی انتخابی مہم کے دوران نریندر مودی نے بی جے پی کے بعض متنازع نعروں پر خاموشی اختیار کئے رکھی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ جماعت بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر اور کشمیر کے بھارتی وفاق میں مکمل انضمام جیسے اہداف بھول چکی ہے، اس لئے ان کی جماعت وادی میں بی جے پی کے ساتھ شراکت اقتدار کے کسی اتحاد میں شامل نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ مقبوضہ وادی میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں حریت پسند جماعتوں نے مکمل بائیکاٹ کررکھا تھا جبکہ انتخابی نتائج کے مطابق ریاستی اسمبلی میں محبوبہ مفتی کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو برتری حاصل ہے جبکہ بی جے ہی دوسرے، کانگریس تیسرے اور عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس چوتھے نمبر پر ہے تاہم کسی بھی جماعت کو حکومت سازی کے لئے واضح اکثریت حاصل نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…