جمعرات‬‮ ، 26 مارچ‬‮ 2026 

ہشت گردوں کوسزائے موت دینے کے فیصلے پر کوئی ہے سخت ناراض۔ مگر کون؟

datetime 21  دسمبر‬‮  2014 |
۔

اسلام آباد: انسانی حقوق کے مختلف عالمی گروپس نے پاکستان حکومت کی جانب سے جمعہ کے روز دو دہشت گردوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کی مخالفت کی ہے۔

پشاور کے ایک سکول میں 130 سے زائد بچوں کی طالبان کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے چھ سالوں سے سزائے موت پر عائد پابندی ختم کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد بحال کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہا کہ لوگوں کو سزائے موت دینے سے دہشت گردی سے نہیں لڑا جا سکتا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے ایشیاء پیسفک ڈیوڈ گریفی نے کہا ‘پشاور کے سکول پر بہت بھیانک تھا لیکن حکومت کی جانب سے مزید ہلاکتیں بھی خوفناک ہیں اور یہ کبھی بھی جرم اور دہشت گردی سے لڑنے کا طریقہ نہیں ہے۔

گریفی کے مطابق، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ حکومت بڑی تعداد میں لوگوں کو پھانسیاں دے کر عالمی قانون کی خلاف ورزی دہرانے جا رہی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں آٹھ ہزار قیدی سزائے موت کے منتظر ہیں جن میں سے 500 سے زائد پر دہشت گردی سے متعلقہ الزامات ہیں۔

‘سزائے موت زندہ رہنے کے حق کی نفی ہے، حکومت ان سزاؤں پر عمل درآمد کے ذریعے عالمی قانون کی خلاف ورزی کرنے جا رہی ہے اور ہمیں اس پر گہری تشویش ہے’۔

گروپ نے کہا کہ سزائے موت کے کئی فیصلے ‘عالمی معیار کی سماعت’ کے بغیر ہوئے ۔

گریفی نے کہا کہ بہت سے لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئی ہیں اور پاکستان میں موجودہ فضا نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر ان سزاؤں پر عمل درآمد کا منصوبہ روکے اور سزائے موت پر دوبارہ پابندی لگائے۔

دوسری جانب، ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے ان سزاؤں پر عمل درآمد کو ‘سانحہ پشاور پر شکست خوردہ سیاسی ردعمل ‘ قرار دیا۔

ایچ آر ڈبلیو نے زور دیا کہ مزید پھانسیاں نہ دی جائیں۔’ حکومت نے اندوہناک سانحہ پشاور کے ذمہ داروں کو تلاش کرنے اور انہیں قانون کے کٹھرے میں کھڑا کرنے کے بجائے انتقامی کارروائی شروع کر دی’۔

اقوام متحدہ نے بھی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اس منصوبہ پر دوبارہ غور کرے۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…