اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

ذکی الرحمان لکھوی کو دوبارہ حراست میں لیکر نظر بند کر دیا گیا

datetime 19  دسمبر‬‮  2014 |

راولپنڈی۔۔۔۔ممبئی حملہ سازش کیس میں عدالت سے ضمانت پانے والے مقدمے کے مرکزی ملزم ذکی الرحمان لکھوی کو دوبارہ حراست میں لیتے ہوئے نظر بند کر دیا گیا ہے۔اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے جمعرات کوذکی الرحمان لکھوی کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں پانچ پانچ لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔ذکی الرحمان اس مقدمے کے سات ملزمان میں سے پہلے ملزم ہیں جن کی ضمانت منظور کی گئی۔تاہم انھیں ضمانت دیے جانے پر ملک کے اندر اور بھارت سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے مطالبہ کیا کہ حکومتِ پاکستان ضمانت منسوخ کرانے کے لیے اعلیٰ عدالت سے رجوع کرے۔ممبئی حملہ سازش کیس میں سرکاری وکیل چوہدری اظہر کے مطابق حکام نے جمعرات کی شب ہی ذکی لکھوی کو سولہ ایم پی او یعنی خدشہ نقصِ امن کی دفعہ کے تحت نظر بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ملزم کو اڈیالہ جیل سے ہی حراست میں لیا گیا اور اس نظر بندی کی مدت تین ماہ تک ہو سکتی ہے۔بھارتی وزیرِ داخلہ نے ذکی لکھوی کی ضمانت پر شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔چوہدری اظہر کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ جمعے کو ذکی الرحمان لکھوی کی ضمانت کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلینج کر رہے ہیں۔ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے اس مقدمے میں ذکی الرحمان لکھوی سمیت سات ملزمان پر فرد جْرم عائد کی جا چکی ہے اور یہ تمام ملزمان راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔26 نومبر 2008 کو شدت پسندوں نے ممبئی کے کئی مقامات پر انتہائی مربوط انداز میں حملے کیے تھے جن میں غیر ملکیوں سمیت 150 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔خیال رہے کہ جہاں بھارت میں اس واقعے کے مرکزی ملزم اجمل قصاب کو 2012 میں سزائے موت دی جا چکی ہے وہیں پاکستان میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں زیرِ حراست ملزمان کو قانونِ شہادت میں تبدیلی کیے بغیر سزا دلوانا ممکن نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…