اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

ممبئی حملہ کیس میں گرفتار ذکی الرحمان لکھوی کی درخواستِ ضمانت

datetime 18  دسمبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ممبئی حملہ کیس کے مرکزی ملزم ذکی الرحمان لکھوی کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی ہے۔عدالت نے ضمانت کے لیے ملزم کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔یہ فیصلہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج کوثر عباس زیدی نے جمعرات کو درخواستِ ضمانت پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد دیا۔ذکی الرحمان اس مقدمے کے پہلے ملزم ہیں جن کی ضمانت منظور ہوئی ہے۔ بی بی سی کے مطابق درخواست گزار کے وکیل رضوان عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف مقدمے کو چھ سال کا عرصہ بیت گیا ہے اور اس دوران استغاثہ ایسا کوئی بھی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کر سکا جس سے ان کے موکل کو مجرم گردانا جا سکے۔انھوں نے کہا کہ اگر اتنے عرصے میں بھی کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے تو ان کے موکل کا بنیادی حق ہے کہ اسے ضمانت پر رہا کر دیا جائے۔استغاثہ نے ضمانت کی منظوری کے فیصلے کو چیلینج کرنے کا اعلان کیا ہے۔سرکاری وکیل چوہدری اظہر کے مطابق اس مقدمے اس مرحلے پر پہنچ چکا ہے کہ شہادتیں قلمبند ہو رہی ہیں اور ان کے بقول بہت سے ایسے شواہد عدالت میں پیش کیے گئے ہیں جن میں ملزم کے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے ثبوت موجود ہیں۔تاہم عدالت نے وکیلِ استغاثہ کے دلائل سے اتفاق نہیں کیا اور ضمانت منظور کر لی۔ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے اس مقدمے میں ذکی الرحمان لکھوی سمیت سات ملزمان پر فرد جْرم عائد کی جا چکی ہے اور یہ تمام ملزمان راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
26 نومبر 2008 کو شدت پسندوں نے ممبئی کے کئی مقامات پر ایک ساتھ حملہ کیا تھا اور اس انتہائی مربوط حملوں میں 150 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے جن میں بہت سے غیرملکی بھی تھے۔
خیال رہے کہ جہاں بھارت میں اس واقعے کے مرکزی ملزم اجمل قصاب کو 2012 میں سزائے موت دی جا چکی ہے وہیں پاکستان میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں زیرِ حراست ملزمان کو قانونِ شہادت میں تبدیلی کیے بغیر سزا دلوانا ممکن نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…