بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

پشاور سانحہ عمران خان کا رونا نواز شریف بھی برداشت نہ کر سکے ‘ اظہار محبت کس طرح کیا ۔

datetime 17  دسمبر‬‮  2014 |
وزیراعظم نواز شریف نے دھاندلی اور اس سے متعلقہ معاملات کو حل کرنے کیلئے عمران خان کو باضابطہ مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ جمہوری عمل کو آگے لے کر جانا چاہتے ہیں، جوڈیشل کمیشن کا جو بھی فیصلہ ہو، قبول کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا حل نہ ہو، بات چیت سے پہاڑ جیسے معاملات بھی حل ہو سکتے ہیں، عمران خان کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں اور تمام معاملات مل بیٹھ کر حل کرتے ہیں، اگر عمران خان مجھے کہیں بلانا چاہتے ہیں تو میں بھی جانے کو تیار ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کے بارے میں ازخود سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے تو دھاندلی اور اس سے متعلقہ معاملات کا احاطہ کر سکے۔ وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ حال ہی میں سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آیا ہے اس کی روشنی میں بات کریں گے اور اسی لئے عمران خان کو دعوت دی ہے اور اگر یہ مجھے دعوت دیں گے تو میں چلا جاؤں گا۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ تمام اختلافات ایک طرف لیکن سانحہ پشاور پر اکٹھے ہیں، ایسے سانحے کے بعد لازم تھا کہ ہم سب اکٹھے ہو جائیں، پہلے بھی کہا تھا سانحہ پشاور قومی ایشو ہے، اس پر حکومت کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجرموں کو پکڑنے کا مطالبہ کونسا جرم ہے؟ میرے نواز شریف سے اختلافات انا کا مسئلہ نہیں ہے، جمہوری عمل کو آگے لے کر جانا چاہتے ہیں، جوڈیشل کمیشن کا جو بھی فیصلہ ہوا قبول کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ یہاں سے سیدھا اسلام آباد دھرنے میں جا رہا ہوں، اس پر وزیراعظم نے کہا کہ ’’ میں نے سانحے پشاور میں زخمی بچوں کی عیادت کیلئے جانا ہے، اگر نہ جانا ہوتا تو ان کے ساتھ کنٹینر پر ہی چلا جاتا‘‘۔ پریس کانفرنس کے بعد وزیراعظم نواز شریف اور عمران خان نے مصافحہ بھی کیا جس پر ماہرین کا کہنا ہے کہ سانحہ پشاور نے جہاں پوری قوم کو متحد کر دیا ہے وہیں گزشتہ کئی مہینوں سے جاری سیاسی بحران بھی ختم ہوتا نظر آ رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…