جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اور کب کب یوں ماوں کی گود اجڑی ہیں؟ دنیا بھر میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے کچھ تعلیمی ادارے تاریخ کے آئینے میں

datetime 16  دسمبر‬‮  2014 |

پشاور میں آرمی پبلک اسکول میں ہونے والا دہشت گردی کا واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں دہشت گرد اب تک کئی تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا چکے ہیں جب سفاک دہشت گردوں نے تعلیم کے چراغ روشن کرنے  اور ہنستے کھیلتے معصوم بچوں کے خون  کی ہولی  کھیل کر سیکڑوں ماؤں کے لخت جگر ان سے  چھین لیے ہیں۔

دسمبر,16 2014: پشاور میں ہونے والے آرمی پبلک اسکول میں 132 معصوم پھول دہشت گردوں کی حیوانیت اور درندگی کا شکار ہوئے جب کہ   دہشت گرد  صوبہ خیبر پختون خوا اور قبائلی علاقوں میں اکثر اسکولوں کو نشانہ بناکر انہیں تباہ کردیتے ہیں ۔

 اپریل14, 2014: نائجیریا میں شد ت پسند گروپ بوکو حرام نے اسکول کی 276 طالبات کو اغوا کرلیا جس میں سے 219 ابھی بھی لاپتہ ہیں جب کہ بوکوحرام اس کے علاوہ بھی  اسکولوں کو نشانہ بناتی رہی ہے۔

 دسمبر14, 2013: امریکی ریاست کونیکٹی کٹ میں نیوٹاون ایلیمنٹری اسکول میں مسلح افراد کی فائرنگ سے 6 ٹیچرز اور 20 بچے دہشت گردی کا شکار ہوئے۔

 جولائی22, 2011: ناروے میں بچوں کا جاری سمر کیمپ دہشت گردی کا نشانہ بنا جس میں استاتذہ اور بچوں سمیت 77 افراد دہشت گردوں کی سفاکیت کا نشانہ بن گئے۔

 اپریل200716: امریکی ریاست ورجینیا میں فائرنگ سے طلبا سمیت 32 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ اس کے علاوہ مختلف امریکی ریاستوں میں اسکول میں فائرنگ کئی واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جس میں متعدد طلبا ہلاک ہو چکے ہیں۔

 یکم ستمبر2004: روسی شہر بیسلان میں دہشت گردوں نے ایک اسکول پر قبضہ کرکے 1200 لوگوں کو یرغمال بنا لیا اور 3 دن تک جاری اس محاصرے میں 331 افراد کو ہلاک کردیا گیا جس میں 186 بچوں کی زندگیوں کے چراغ بھی گل کردیئے گئے۔

 جنوری28, 1999: فلپائن کے علاقے کوٹاباٹو سے مورو اسلامک لبریشن فرنٹ نے 70 اساتذہ  اور 500 طلبا کو اغوا کرلیا جنہیں بعدا زاں رہا کردیا گیا۔

 اپریل20, 1999: کولوراڈو کے علاقے کولمبائن کے ایک اسکول میں فائرنگ سے کئی بچوں سمیت 13 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…