جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

دل کی دھڑکنوں سے پہچان کرنے والا آلہ تیار کر لیا گیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟ جاننے کیلئے کلک کریں

datetime 14  دسمبر‬‮  2014 |

ٹورنٹو: ایک طرف ٹیکنالوجی کی ترقی نے انگلیوں کے پرنٹ اور پاس ورڈز کو بھی غیر محفوظ بنادیا ہے تودوسری جانب اسی ٹیکنالوجی کے ماہرین نے اس کا بھی توڑ نکال لیا ہے اور ایک ایسا آلہ تیار کیا ہے جو  دل دھڑکنوں کی مدد سے سوچ اور جھوٹ کو لمحوں میں سامنے لے آئے گا۔

بائیو میٹرک ٹیکنالوجی کے ماہرین پر مشتمل کینیڈین کمبپنی  نے ’دی نیمی‘ نامی آلے کو تیار کیا ہے جوہاتھ کی کلائی پر پہنا جائے گا یہ آلہ دل کی دھڑکنوں کی پیمائش کرے گا اور مطلوبہ شخص کی تصدیق کردے گا۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کرل مارٹن کا کہنا ہے کہ فنگر پرنٹس سے پہچان کا طریقہ اب غیر محفوظ ہوگیا ہے کیونکہ آپ کہیں بھی اپنی فنگر پرنٹس کوچھوڑ کر آسکتے ہیں جسے مارکیٹ میں موجود آلات سے بآسانی نقل کیا جاسکتا ہے اور آپ کا ذاتی ڈیٹا تک کوئی بھی رسائی حاصل کرلیتا ہے۔

چیف ایگزیکٹو کا کہنا تھا کہ کیونکہ ہر انسان کی دل کی الیکٹریکل پلسز مختلف ہوتی ہے اسی لیے جعل سازی کے توڑ کیلئے آلے میں لگا سینسر دل کی الیکٹریکل دھڑکنوں کو پڑھے گا اور اسے میچ کرے گا اور مستقبل میں آپ کو اپنی تصدیق کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہوگی، اس آلے کی مدد سے چند لمحوں میں ہی جانچ کا عمل مکمل ہوجائے گا۔ کمپنی ماہرین کے مطاق اس آلے کی مدد سے لوگوں کو اپنے کریڈٹ کارڈ سے رقم نکلوانے کے لیے  پن کوڈ کی بھی ضرورت نہیں ہوگی اور کلائی میں موجود بینڈ کے ذریعے باآسانی اپنی شناخت کرائی جاسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…