اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ملک میں ٹیلی کمیونی کیشن نیٹ ورک کی توسیع کے لیے اہم قانون سازی کی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت لائسنس یافتہ موبائل اور ٹیلی کام کمپنیوں کو آپٹیکل فائبر نیٹ ورک بچھانے میں مزید اختیارات حاصل ہوں گے۔
قومی اسمبلی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن تنظیمِ نو (ترمیمی) بل کی منظوری دے دی ہے۔ اگلے مرحلے میں اس بل کو غور و خوض اور منظوری کے لیے سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔
مجوزہ ترمیم کے مطابق سرکاری اداروں اور نجی املاک کے مالکان کو ٹیلی کمیونی کیشن انفراسٹرکچر کی تنصیب کے لیے متعلقہ کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں جدید مواصلاتی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔
بل میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ اگر کوئی نجی مالک، کرایہ دار، سرکاری یا نجی ادارہ موبائل یا ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی کو آپٹیکل فائبر بچھانے یا مواصلاتی ٹاور نصب کرنے کے لیے جگہ فراہم کرنے سے انکار کرے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے گی۔
قانون کے تحت ایسی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ فرد یا ادارے پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی کا مقصد ملک میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونی کیشن خدمات کے دائرہ کار کو وسیع کرنا، نیٹ ورک کے معیار کو بہتر بنانا اور ڈیجیٹل ترقی کے عمل کو تیز کرنا ہے۔



















































