اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) کراچی میں مختصر مدت کے لیے اغوا برائے تاوان کی ایک اور سنگین واردات رپورٹ ہوئی ہے،
جس میں ایک معروف کرپٹو کرنسی ٹریڈر کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کے مطابق گلستانِ جوہر کے علاقے کامران چورنگی کے قریب نامعلوم افراد نے جے ایس راؤ نامی کرپٹو ٹریڈر کو پیر کی شب مبینہ طور پر اغوا کر لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ متاثرہ شخص ایک چائے کے ہوٹل پر موجود تھا جب ملزمان نے اسے اپنی تحویل میں لیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق اغوا کے دوران ٹریڈر پر تشدد کیا گیا اور ملزمان نے اس کے ڈیجیٹل والٹ تک رسائی حاصل کر کے پانچ لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کے کرپٹو اثاثے مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کر دیے۔ واردات کے بعد ملزمان متاثرہ شخص کے موبائل فونز اور دیگر قیمتی سامان بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ واردات کے دوران ایک مہنگی فارچیونر گاڑی استعمال کی گئی۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے گاڑی اور ملزمان کی شناخت کے لیے مختلف شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس میں بعض پولیس اہلکاروں کے ممکنہ کردار سے متعلق بھی شواہد موصول ہوئے ہیں، جن کی بنیاد پر مزید چھان بین جاری ہے۔ حکام نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
دوسری جانب متاثرہ کرپٹو ٹریڈر نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں منعقد ہونے والے ایک بین الاقوامی کرپٹو ٹریڈنگ مقابلے میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں، لیکن پاکستان واپسی پر انہیں اغوا اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں نے پہلے ان کی نقل و حرکت، روزمرہ معمولات اور رہائش سمیت مختلف معلومات حاصل کیں، جس کے بعد انہیں نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ شخص کے مطابق اس واقعے میں انہیں جسمانی نقصان بھی پہنچا، جس میں ناک کی ہڈی اور ہاتھ کے زخمی ہونے کا دعویٰ شامل ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار عناصر کو فوری گرفتار کیا جائے اور ان کے ڈیجیٹل والٹ سے نکالی گئی تقریباً پانچ سے چھ لاکھ ڈالر مالیت کی رقم برآمد کر کے واپس دلائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انصاف نہ ملا تو وہ احتجاج سمیت دیگر قانونی راستے اختیار کریں گے۔
تاحال پولیس کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ مؤقف یا تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔



















































