اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کے جاری مالی سال میں تجارتی خسارے میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو بڑھ کر تقریباً 28 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے، یوں اس میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ادارہ شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدات میں بھی 6.89 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال کے ابتدائی نو ماہ (جولائی تا مارچ) میں مجموعی درآمدی حجم 50 ارب 65 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں مختلف اشیائے خور و نوش کی درآمد میں اضافہ ہوا، جن میں دودھ، مکھن، خشک میوہ جات اور پام آئل شامل ہیں، جبکہ غذائی اشیا کی مجموعی درآمد میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی دوران پاکستانیوں نے چائے کی مد میں 147 ارب روپے خرچ کیے۔
رپورٹ کے مطابق موبائل فونز کی درآمد میں بھی 28 فیصد اضافہ ہوا، اور صرف نو ماہ میں 406 ارب روپے سے زائد مالیت کے اسمارٹ فونز بیرون ملک سے منگوائے گئے۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا، جو 83 فیصد بڑھ کر 2 ارب 90 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔
دوسری طرف کچھ شعبوں میں کمی بھی دیکھی گئی ہے، جہاں پٹرولیم مصنوعات کی درآمدی لاگت تقریباً 11 ارب ڈالر رہی جبکہ ٹیکسٹائل کی درآمد 4 ارب 87 کروڑ ڈالر تک محدود رہی۔



















































