کراچی(این این آئی)پاکستان کی 16 کمپنیوں کو روس کو مچھلی برآمد کرنے کی اجازت مل گئی۔
وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چودھری نے ماہی گیری کے شعبے میں تاریخی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی بار پاکستانی مچھلی اور سی فوڈ کی روس کو برآمدات کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔وفاقی وزیر بحری امور نے کہاکہ روسی مارکیٹ کے بعد یوریشین اکنامک یونین کے دیگر ممالک تک رسائی بھی متوقع ہے جس سے پاکستان کے سی فوڈ سیکٹر کو مزید وسعت ملے گی۔انہوں نے کہا کہ میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ سی فوڈ برآمدات کیلئے بین الاقوامی معیار کو یقینی بناتا ہے جو عالمی منڈی میں مسابقت کیلئے نہایت اہم ہے، پاکستان کی سالانہ سی فوڈ برآمدات500 ملین ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے جبکہ روسی مارکیٹ میں داخلے کے بعد یہ برآمدات 800 ملین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔جنید انوار چودھری نے کہاکہ روس کو برآمدات سے ابتدائی طور پر 300 ملین ڈالر آمدن متوقع ہے جو ملکی معیشت کیلئے مثبت پیشرفت ثابت ہوگی۔انہوںنے کہاکہ سی فوڈ برآمدات کیلئے سمندری، فضائی اور زمینی راستے استعمال کئے جائیں گے جبکہ وسطی ایشیائی ممالک تک زمینی راستہ ایک کم لاگت تجارتی راہداری قرار دیا گیا ہے،
قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان میں پاکستانی مچھلی کی بڑی طلب موجود ہے، جو برآمدی مواقع کو مزید بڑھا سکتی ہے۔وفاقی وزیرنے کہاکہ پاکستانی بندرگاہیں علاقائی تجارت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ پاکستانی گرم پانی کی مچھلیاں عالمی مارکیٹ میں مسابقتی برتری حاصل کر سکتی ہیں۔وزیر بحری امور نے اس امید کا اظہار کیا کہ بہتر انفراسٹرکچر اور عالمی معیار پر عملدرآمد سے سی فوڈ برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔



















































