اسلام آباد (این این آئی)چیئرمین نیپرا وسیم مختار کی سربراہی میں نیپرا میں رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کیلئے
بجلی کی قیمت میں 43 پیسے فی یونٹ اضافے پر سماعت ہوئی۔اس دوران صارفین نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انکریمنٹل پیکیج سے بعض صنعتوں کو فائدہ اور بعض کو نقصان ہو رہا ہے، فرنس آئل پر چلنے والی انڈسٹری کو 22 روپے تک یونٹ مل رہی ہے اور پیکیج میں شیئر کیے گئے اعداد و شمار درست نہیں۔صارفین نے نیپرا سے سی پی پی اے کے اعداد و شمار کا دوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا، سی پی پی اے حکام کے مطابق کوارٹر ایڈجسٹمنٹ کیلئے 431ارب روپے کپیسٹی پے منٹس کی مد میں درکار ہیں جبکہ گزشتہ سال ڈسکوز کو 459ارب روپے کی ضرورت تھی۔ سی پی پی اے نے بتایا کہ مستقبل میں فرنس آئل کے پاور پلانٹس نہیں چلائے جائیں گے،
نیپرا نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت مکمل کر لی اور اتھارٹی اعداد و شمار کا جائزہ لے کر فیصلہ جاری کرے گی۔



















































