اسلام آباد (نیوزڈیسک) سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک نئی تجارتی ڈیل طے پا چکی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک مشترکہ طور پر تیل کے ذخائر کی تلاش کا عمل شروع کریں گے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری کردہ اپنے پیغام میں ٹرمپ نے بتایا کہ اس شراکت داری کی قیادت کے لیے کسی موزوں آئل کمپنی کے انتخاب کا عمل جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس منصوبے کے تحت پاکستان کی تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش میں بھرپور مدد کرے گا۔ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں پاکستان نہ صرف اپنی توانائی ضروریات پوری کرے گا بلکہ بھارت کو بھی تیل برآمد کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق، کئی دیگر ممالک بھی تجارتی محصولات (ٹیرف) میں نرمی کے لیے امریکہ سے بات چیت کر رہے ہیں، جس سے امریکی تجارتی خسارہ کم ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس تجارتی ڈیل کی تفصیلی رپورٹ جلد منظرعام پر لائی جائے گی۔بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ان ہی نکات کو دہرایا اور کہا کہ امریکی معیشت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری دوبارہ واپس آ رہی ہے۔دوسری طرف، صدر ٹرمپ نے بھارت سے متعلق سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ بھارت کو یکم اگست سے 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت یہ ادائیگی نہیں کرتا تو اسے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ماضی میں امریکہ سے سب سے زیادہ ٹیرف وصول کرتا رہا ہے، مگر اب ایسا نہیں چلے گا۔ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے ہمیشہ روسی اسلحہ خریدا اور توانائی کی بڑی مقدار روس سے حاصل کی، جبکہ یوکرین جنگ میں بھی بھارت کا جھکاؤ واضح طور پر روس کی طرف رہا ہے۔