پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

تنخواہوں میں بڑا اضافہ کردیا گیا ؟ سرکاری ملازمین کےلئے بڑی خوشخبری آگئی

datetime 22  جولائی  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے صوبے کی سرکاری جامعات میں ڈائریکٹر فنانس کے عہدے پر تعینات افسران کی مالی مراعات میں خاطرخواہ اضافہ کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس ضمن میں چیئرمین سندھ ایچ ای سی، پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع نے وزیر اعلیٰ سندھ کو ایک سمری ارسال کی ہے جس میں ڈائریکٹر فنانس کی تنخواہ 5 لاکھ روپے ماہانہ مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔موصولہ معلومات کے مطابق مذکورہ سمری میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور وفاقی چارٹرڈ جامعات میں ڈائریکٹر فنانس کو بی پی ایس-20 کے تحت مستقل بنیادوں پر تعینات کیا جاتا ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ تقرری بی پی ایس-20 یا 21 میں چار سال کی مدت کے لیے کی جاتی ہے۔

سندھ میں اس حوالے سے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ماضی قریب تک سرکاری جامعات میں ڈائریکٹر فنانس کا تقرر باقاعدہ طور پر بی پی ایس-20 میں کیا جاتا رہا، تاہم 2018 کے بعد سندھ یونیورسٹیز اینڈ انسٹیٹیوٹس لاز (ترمیمی) ایکٹ کے نفاذ سے اس عہدے کی مدت کو تین سال تک محدود کر دیا گیا۔سمری میں مزید کہا گیا ہے کہ اکثر منتخب ہونے والے ڈائریکٹرز فنانس پروفیشنل کوالیفائیڈ ہوتے ہیں، جیسے کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس (CA)، آئی سی ایم اے یا اے سی سی اے، جو نجی شعبے میں بھاری معاوضہ حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔

اس لیے سرکاری شعبے میں کم تنخواہ کی وجہ سے کئی اہل افراد نے یا تو تقرری سے انکار کر دیا یا پھر جوائن نہیں کیا، جس کے نتیجے میں جامعات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔سمری میں یہ نکتہ بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ ڈائریکٹر فنانس کے لیے مناسب تنخواہ نہ ہونے کی وجہ سے سندھ حکومت کو ویٹنگ لسٹ سے تقرریاں کرنا پڑیں، جن میں سے بعض امیدوار سرچ کمیٹی کی سفارشات پر تعینات کیے گئے۔چیئرمین سندھ ایچ ای سی نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ یونیورسٹیوں میں مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانے اور باصلاحیت افراد کو برقرار رکھنے کے لیے ڈائریکٹر فنانس کی تنخواہ کم از کم 5 لاکھ روپے ماہانہ مقرر کی جائے، تاکہ یہ عہدہ تجربہ کار اور اہل افراد کے لیے پرکشش بن سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…