پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

40 ہزار پاکستانی زائرین غائب! عراق، شام، ایران جاکر کہاں چلے گئے معلوم نہیں، وزیر مذہبی امور کا انکشاف

datetime 16  جولائی  2025 |

اسلا م آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے حیران کن انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تقریباً 40 ہزار پاکستانی زائرین، جو عراق، شام اور ایران کے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے گئے تھے، ان کا سراغ نہیں مل سکا۔ ان کے بقول حکومت پاکستان کے پاس ان افراد کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق ان ممالک نے بھی زائرین کی گمشدگی کا معاملہ پاکستان کے ساتھ اٹھایا تھا، جس کے بعد حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے زیارات کے انتظامات کو منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس مقصد کے تحت ایک جدید کمپیوٹرائزڈ سسٹم متعارف کروایا گیا ہے، جس کے ذریعے اب زائرین صرف رجسٹرڈ زیارت گروپ آرگنائزرز (ZGOs) کے تحت ہی سفر کر سکیں گے۔اب تک وزارت مذہبی امور کو 1400 سے زائد کمپنیوں کی جانب سے بطور ZGO رجسٹریشن کے لیے درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ سردار محمد یوسف نے بتایا کہ جلد ہی روایتی قافلہ سالار نظام کو ختم کر دیا جائے گا اور اس کی جگہ نیا مربوط طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔وزارت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وہ کمپنیاں جنہیں سیکیورٹی کلیئرنس دی جا چکی ہے، انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 31 جولائی سے قبل آن لائن رجسٹریشن مکمل کر کے تمام متعلقہ دستاویزات وزارت کو جمع کروائیں۔اس کے علاوہ، وزارت نے ایک نیا اشتہار بھی جاری کیا ہے جس میں مزید کمپنیوں سے 10 اگست تک بطور زیارت گروپ آپریٹر رجسٹریشن کی درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔

وفاقی وزیر نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ماضی میں ایران، عراق اور شام جانے والے زائرین کے لیے کوئی منظم نظام موجود نہیں تھا، جبکہ حج اور عمرہ کے انتظامات کی ذمہ داری تو وزارت سنبھالتی تھی مگر زیارات کا انتظام غیر منظم تھا۔ ان کے مطابق 2021 میں اس حوالے سے پالیسی منظور کی گئی تھی لیکن سابقہ حکومت کے دوران اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…