پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

بجٹ 2025-26، ایک اور موٹروے بنانے کیلئے 115 ارب روپے مختص کر دیئے گئے

datetime 10  جون‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت نے آئندہ مالی سال 2025-26 کے لیے سالانہ ترقیاتی منصوبہ جاری کر دیا ہے، جس میں معاشی ترقی اور مہنگائی کے اہداف طے کر دیے گئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق آئندہ سال جی ڈی پی کی شرح نمو 4.2 فیصد جبکہ مہنگائی کی شرح 7.5 فیصد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ترقیاتی اخراجات کے لیے مجموعی طور پر 4 ہزار 224 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ’’اُڑان پاکستان‘‘ پروگرام کے تحت برآمدات پر مبنی معیشت کو ترجیح دی جائے گی تاکہ اقتصادی ترقی میں استحکام لایا جا سکے۔فائیو ایز (5Es) نامی پانچ سالہ ترقیاتی فریم ورک بھی اس پلان کا حصہ ہے، جس میں برآمدات، ڈیجیٹل پاکستان (ای پاکستان)، ماحولیات، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کو شامل کیا گیا ہے۔دستاویزات کے مطابق زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 4.5 فیصد، صنعتی پیداوار کا ہدف 4.3 فیصد اور خدمات کے شعبے کی شرح نمو 4 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ سرمایہ کاری کا مجموعی ہدف جی ڈی پی کے 14.7 فیصد اور قومی بچت کا ہدف 14.3 فیصد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے متعدد بڑے منصوبے بھی بجٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔ سکھر تا حیدرآباد موٹر وے (ایم-6) کے لیے 15 ارب روپے جبکہ این-25 کوئٹہ کراچی شاہراہ پر 100 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں سندھ کے متاثرہ اسکولوں کی تعمیر نو کے لیے 41 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔ اسی طرح کراچی اور اسلام آباد میں جدید آئی ٹی پارکس کے قیام کے لیے 11 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کراچی میں پانی کی فراہمی سے متعلق منصوبے پر 13 ارب روپے خرچ ہوں گے۔اس کے علاوہ علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے 4.4 ارب روپے اور ملکی ریونیو میں اضافے کے لیے تین ارب روپے کے منصوبے بھی بجٹ میں شامل کیے گئے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…