پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

بجٹ میں 200 سے 300 یونٹ والوں کو بجلی نرخ میں خصوصی رعایت کی تجویز

datetime 2  جون‬‮  2025 |

اسلام آباد( نیوز ڈیسک)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے حالیہ اجلاس میں بجٹ 2025-26 کے حوالے سے اہم تجاویز اور توانائی کے بحران پر شدید تحفظات سامنے آئے۔ اجلاس کی صدارت رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے کی، جس میں بجلی کی نجکاری، بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ، اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی زیر بحث آئی۔اجلاس کے دوران کمیٹی کے ممبران نے کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ارکان نے کہا کہ شدید گرمی میں غیر اعلانیہ اور طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ڈاکٹر فاروق ستار نے ان اداروں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے کئی علاقوں میں 18 سے 20 گھنٹے تک بجلی غائب رہتی ہے، جو کہ عوام کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بجلی چوری یا بلوں کی ادائیگی کا مسئلہ ہے، وہاں پورے فیڈر کو بند کرنے کے بجائے پی ایم ٹی (ٹرانسفارمر) کی سطح پر کارروائی کی جائے تاکہ شریف شہری متاثر نہ ہوں۔اجلاس میں بجٹ سے متعلق تجاویز پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے تجویز پیش کی کہ بجٹ میں ان گھریلو صارفین کو بھی بجلی نرخوں میں رعایت دی جائے جو ماہانہ 200 سے 300 یونٹ کے درمیان بجلی استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متوسط طبقے پر مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کے لیے یہ قدم ناگزیر ہو چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…