اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

بنگلہ دیش کی نئی حکومت نے نئے کرنسی نوٹوں پر شیخ مجیب کی تصویر ہٹا کر کس کی لگا دی ؟ حسینہ واجد کو ایک اور جھٹکا

datetime 2  جون‬‮  2025 |

اسلام آباد( نیوز ڈیسک)بنگلہ دیش میں حالیہ دنوں ایک حیران کن اور غیرمعمولی اقدام نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ملک کے بانی رہنما اور ’بابائے قوم‘ کہلانے والے شیخ مجیب الرحمان کی تصویر کو نئے جاری ہونے والے کرنسی نوٹوں سے ہٹا دیا گیا ہے، جو کئی حلقوں کے لیے باعثِ حیرت و تشویش بن گیا ہے۔

بینک آف بنگلہ دیش نے اتوار کے روز نئے ڈیزائن کے 20، 50 اور 1000 ٹکہ کے نوٹ عوام کے لیے جاری کیے، جن پر کسی بھی قومی شخصیت کی تصویر شامل نہیں ہے۔ اس کے بجائے، ان نوٹوں کو بنگلہ دیش کے قدرتی حسن اور تاریخی ورثے کی عکاسی کرتے مناظر سے مزین کیا گیا ہے۔ بینک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ قدم صرف ظاہری تبدیلی نہیں بلکہ قومی تشخص کی ایک نئی سمت کی طرف اشارہ ہے، جس میں ثقافتی و تاریخی ورثے کو اجاگر کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔ترجمان نے مزید واضح کیا کہ اس نئے ڈیزائن کا نفاذ مرحلہ وار ہوگا اور آئندہ جاری ہونے والے نوٹوں میں بھی یہی طرز برقرار رکھا جائے گا۔ البتہ، پرانے کرنسی نوٹ بدستور قانونی حیثیت کے ساتھ زیرِ گردش رہیں گے، لہٰذا عوام کو کسی قسم کی پریشانی لاحق نہیں ہونی چاہیے۔

یاد رہے کہ 1972 میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ابتدائی کرنسی نوٹوں پر ملک کا نقشہ دکھایا جاتا تھا، تاہم بعد میں اقتدار میں آنے والی عوامی لیگ کی حکومت نے ان نوٹوں پر شیخ مجیب الرحمان کی تصویر شامل کی۔ اس کے برعکس، جب اقتدار میں مخالف جماعتیں جیسے بی این پی آئیں، تو نوٹوں پر تاریخی مقامات اور آثارِ قدیمہ کے مناظر دکھائے جانے لگے۔اس بار نوٹوں سے بانیِ قوم کی تصویر ہٹانے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک ایک سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ سال 5 اگست کو ہونے والے شدید حکومت مخالف مظاہروں میں درجنوں جانیں ضائع ہوئیں۔ ان مظاہروں کے بعد اطلاعات آئیں کہ وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد، جو شیخ مجیب کی بیٹی ہیں، نے استعفیٰ دے کر ملک چھوڑ دیا اور مبینہ طور پر بھارت منتقل ہوگئیں۔

اس وقت ملک میں ایک نگران حکومت قائم ہے جو عبوری بنیادوں پر امورِ حکومت چلا رہی ہے۔شیخ مجیب الرحمان کی تصویر کا نوٹوں سے ہٹایا جانا صرف ایک مالیاتی یا بصری فیصلہ نہیں سمجھا جا رہا، بلکہ اسے ایک بڑی سیاسی اور نظریاتی تبدیلی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام شاید بنگلہ دیش کی قومی تاریخ اور شناخت کے بیانیے میں تبدیلی کی ابتدا ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…