پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

3 لاکھ روپے فی کلو فروخت ہونے والے آم کی کراچی میں بھی پیداوار شروع

datetime 28  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)دنیا بھر میں قیمتی پھلوں کی فہرست میں شامل جاپانی آم “میازاکی” اب پاکستان میں بھی اگایا جا رہا ہے، جو اپنی بے مثال مٹھاس اور انوکھے رنگ کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ آم بین الاقوامی مارکیٹ میں 800 سے 900 امریکی ڈالر فی کلو میں فروخت ہوتا ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً ڈھائی سے تین لاکھ روپے بنتے ہیں۔

اس نایاب آم کی خاص بات اس کا گہرا سرخ اور جامنی رنگ، بغیر ریشے کا نرم گودا، اور خوشبودار ذائقہ ہے، جس کی بدولت اسے “دھوپ کا انڈہ” یا “ڈائناسور کے انڈے” جیسے دلچسپ نام بھی دیے گئے ہیں۔اب یہ قیمتی پھل کراچی کے علاقے ملیر، خاص طور پر میمن گوٹھ میں کاشت کیا جا رہا ہے۔ مقامی کسان غلام ہاشم نورانی نے جاپان سے میازاکی آم کا پودا منگوایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی کے موسمی حالات میں اس پودے کی خصوصی نگہداشت کی گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب یہ پودا پھل بھی دے رہا ہے۔یہ دوسرا سال ہے کہ غلام ہاشم کو میازاکی آم کی فصل حاصل ہوئی ہے۔ ان کے مطابق، رواں سیزن میں وہ یہ آم تین لاکھ روپے فی کلو تک فروخت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔پاکستان میں میازاکی آم کی کاشت مقامی مارکیٹ کے لیے تو خوش آئند ہے ہی، لیکن اس کی برآمد کے مواقع بھی پیدا ہو چکے ہیں، جو ملکی زرِ مبادلہ میں اضافے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…