منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

سولر استعمال کرنے والوں کے ہاتھوں بجلی صارفین پر 200 ارب روپے کا بوجھ پڑگیا

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)تحقیق و و تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ مالی سال 2023-24 کے دوران ملک بھر میں سولر پینلز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ہاتھوں بجلی کے عمومی صارفین کو 200 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔سولر پینلز کے ذریعے بجلی بنانے کے رجحان میں اضافے سے بجلی کی قیمت میں 2 روپے فی یونٹ اضافی ادا کرنے کے باعث گرڈ صارفین کی جیب پر بوجھ پڑا ہے۔ ملک بھر میں نیٹ میٹرنگ بھی بڑھی اور شمسی توانائی کو ریگیولیٹ کرنے کی راہ بھی ہموار نہ ہوسکی۔

تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے فوری اقدام نہ کیے جانے کی صورت میں گرڈ کے صارفین پر مالی بوجھ بڑھتا چلا جائے گا۔اگر رواں سال شمسی توانائی کے باعث گرڈ کی ڈیمانڈ میں پانچ فیصد کمی سے بجلی کے عام صارفین کو مزید 131 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ اگر گرڈ کی ڈیمانڈ میں 10 فیصد کمی واقع ہوئی تو خسارہ بڑھ کر 261 ارب ڈالر ہوجائے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر گرڈ پر لاگت میں اضافے کے حوالے سے بڑھنے والے بوجھ کو کم کرنا ہے تو لازم ہے کہ شمسی توانائی کے حوالے سے ریگیولیشنز لائے جائیں اور طلب و رسد میں توازن پیدا کیا جائے۔ تجویز پیش کی گئی ہے کہ نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ یا فیڈ اِن ٹیرف سسٹم میں کمتر نرخ پر شامل کیا جائے۔ حقیقی لاگت کی نشاندہی کے لیے فکسڈ گرڈ فیس متعارف کرائی جائیں۔بجلی کی دو طرفہ ترسیل و روانی یقینی بنانے کے لیے ڈسٹری بیوشن کوڈ میں تبدیلی بھی تجویز کی گئی ہے۔

اس کا بنیادی مقصد توانائی کے قابلِ تجدید ذرائع اور گرڈ کے استحکام میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ملک بھر میں سولر پینلز کا استعمال بڑھا ہے۔ چھتوں پر 10 کلوواٹ کا نیٹ میٹرنگ سسٹم لگانے سے عام آدمی کو بجلی کی قیمت میں 20 روپے فی یونٹ کی بچت ہوتی ہے۔ فکسڈ کاسٹ میں 7 روپے فی یونٹ بچت کی راہ ہموار ہوتی ہے۔شمسی توانائی کی پیداوار میں اضافہ ہونے سے گرڈ کی پیداوار کی طلب میں 10 فیصد تک کمی کے باعث ہونے والا خسارہ بجلی کے عام صارفین سے وصول کیا جارہا ہے۔رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ملک میں گرڈ پاور کی طلب گھٹنے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے جامع حکمتِ عملی ترتیب دی جائے اور قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی اور گرڈ کی بجلی کی طلب کے درمیان توان پیدا کیا جائے۔ اگر شمسی توانائی اور دیگر قابلِ تجدید طریقوں سے بجلی کے حصول میں اضافہ کیا جاتا رہا تو گرڈ کی بجلی انتہائی پریشان کن حد تک مہنگی ہوجائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…