جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

اربوں روپے کے کورونا فنڈز کا صرف 13فیصد مریضوں پر استعمال ہوا باقی رقم حکومتی اخراجات کی نذر ہو گئی،تہلکہ خیز انکشاف

datetime 29  اپریل‬‮  2021 |

پشاور (این این آئی)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ گزشتہ 14ماہ میں کرونا کی وبا سے نمٹنے اور چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے حکومت نے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے،اربوں روپے کے کرونا فنڈز کا صرف 13فیصد مریضوں پر استعمال ہوا باقی رقم حکومتی اخراجات کی نظر ہو گئی،بیرون اور اندرون ملک سے اکٹھے ہونے والے کرونا فنڈ کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے،

حکومت نے عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا،لوگوں کو ماسک پہنانے کے لیے بھی فوج بلانا پڑی جو سول سیٹ اپ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے،22کروڑ آبادی کے لیے ایک دو ہزار ہزار وینٹی لیٹرز ہیں،خدشہ ہے کہ مرض بڑھ گیا تو حکومت آکسیجن فراہمی کا ٹاسک بھی پورا نہیں کر سکے گی،سعودی عرب کی جانب سے فلائٹس پر پابندی میں وبا کم اور خارجہ پالیسی کی ناکامی کا عنصر زیادہ شامل ہے، علما سے اپیل کرتا ہوں کہ ممبر اور محراب کو کرونا کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کے لیے استعمال کریں۔ صحت اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے اس کی حفاظت ضروری ہے۔ جماعت اسلامی سیاست اور مذہب سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کر رہی ہے۔ ہمارے ہسپتال، ڈاکٹرز، ایمبولینسز حکومت کے لیے حاضر ہیں۔ان خیالات کااظہار انھوں نے الخدمت ہسپتال نشتر آباد پشاور میں کرونا سپیشل کیئر یونٹ کے افتتاح کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سراج الحق نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت میں معاملات چلانے کی اہلیت نہیں ہے۔ ملک کو درپیش کوئی بھی بڑا مسئلہ لیڈر اور حکومت کا امتحان ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت اس امتحان میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ ہسپتالوں سے مریضوں کو گھر واپس بھیجا جا رہا ہے اور انتظامیہ نے بظاہر ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں۔ انھوں نے قوم سے اپیل کی کہ چوں کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے

اس لیے اپنی مدد آپ کے تحت حالات کا مقابلہ کیا جائے۔ پاکستانی قوم ایک دلیر اور غیرت مند قوم ہے۔ مصیبت اور پریشانی کے عالم میں امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کا طلب گار رہنا چاہیے۔ لاک ڈاؤن کے حوالے سے ایک سوال پر سراج الحق نے کہا کہ حکومت پہلے ایکشن لیتی ہے اور بعد میں سوچتی ہے۔ لاک ڈاؤن سے قبل شہروں اور علاقوں میں خوراک اور بنیادی

ضرورت کی اشیا کی فراہمی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ایک اور سوال کے جواب میں امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے افغانستان اور بنگلہ دیش کی پروازوں پر پابندی نہیں لگائی بلکہ پاکستان کا انتخاب کیا۔ اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ حکومت کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اندرونی اور بیرونی محاذوں پر کوئی بھی قابل ستائش کارنامہ انجام نہیں دے سکی۔ حکمرانوں نے لوگوں کو مایوس کیا۔ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ معیشت تباہ

ہوئی اور ملک کو بند گلی میں لاکھڑا کیا گیاہے۔سراج الحق نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں کی حالت ناقابل بیان حد تک تشویش ناک ہے۔ موجودہ اور سابقہ حکومتوں نے ہیلتھ سیکٹرز ریفارمز لانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کی خدمت کی ہے۔ ہم اب بھی میدان عمل میں ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے کرونا کیئر یونٹ کے آغاز سے پشاور کے سرکاری ہسپتالوں پر بوجھ میں کمی ہو گی۔ امیر جماعت نے الخدمت فاؤنڈیشن کے کاموں کو سراہا اور انھیں کم ریسورسز کے باوجود قوم کی بھرپور خدمت کرنے پر مبارک باد دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…