جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

’’پی ٹی آئی حکومت کے پہلے 3ماہ کے دوران مہنگائی 3سال کے برابر بڑھ گئی ‘‘ روزمرہ کی وہ ضروری اشیاء جو پچھلے سال 80,95,120روپے فی کلو میں بکتی رہیں ان کی قیمت اس سال کہاں تک پہنچ گئی؟گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے

datetime 29  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان بھر میں اس وقت مہنگائی اپنے عروج پر ہے ۔پچھلے سال دسمبر کے مقابلے میں اس سال دسمبر میں روزمرہ کی اشیاء خوردونوش کی قیمتیں کیا رہیں ؟اس کی تفصیل کچھ یوں ہے ،کالے چنے 95سے بڑھ کر120روپے کلو،دال چنا 90سے110روپے فی کلو، سفید چنے سستے ہوئے جس کی فی کلو 180روپے سے کم ہو کر 160روپے فی کلو رہی ۔

دال ماش جو پچھلے سال دسمبر میں 120روپے فی کلو فروخت ہوتی تھی اس سال کے اختتام پر وہ 160روپے تک پہنچ گئی ،دال مسور کی قیمت کو بھی پر لگ گئے جو 80روپے کے بعد 125روپے فی کلو پر پہنچ گئی ،شملہ مرچ کی قیمت 30روپے سے بڑھ کر 80روپے کلو،کیلے70روپے درجن سے بڑھ کر 80روپے درجن تک پہنچ گئے ۔انار بدانہ 300روپے کے بجائے 350روپے فی کلو کے حساب سے بک رہا ہے ۔دوسری جانب پیاز کی قیمت 60 روپے سے کم ہوکر 30روپے ،آلو کی قیمت 40کے بجائے 25روپے فی کلو ہوگئی،ٹماٹر کی قیمت نے بھی ریورس گیئر لگایاجو 70روپے کے بجائے40روپے کلو میں دستیاب ہیں ،مہنگائی کے اس طوفان پر عوام اور دکانداروں نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے پہلے 3ماہ کے دوران مہنگائی 3سال کے برابر بڑھ گئی ہے ، غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی میکانزم بنایا جانا چاہئے ۔مہنگائی نے ہماری کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔ گھر کا بجٹ بکھر کر رہ گیا ہے ۔ وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ اس صورتحال کو نوٹس لے اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو فعال کیا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…