منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

روئی کی اسپاٹ ریٹ میں فی من 900 روپے کی نمایاں کمی

datetime 18  اگست‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران روئی کے بھا ؤمیں مندی کا تسلسل جاری رہا۔ پھٹی کی رسد میں اضافہ ہونے اور نیویارک کاٹن مارکیٹ میں روئی کے وعدے کے بھا ؤمیں گراوٹ کی وجہ سے جنرز میں گھبراہٹ پیدا ہونے کے سبب انہوں نے اونے پونے داموں روئی فروخت کرنا شروع کردی جس کے باعث روئی کے بھاؤ میں مزید 800 تا 900 روپے کی کمی واقع ہوئی۔

جبکہ گزشتہ دو ہفتوں میں روئی کے بھاؤ میں مجموعی طورپر فی من 1500 روپے کی غیر معمولی کمی واقع ہوئی روئی کا بھاؤ فی من 9400 تا 9500 روپے کے بھا ؤسے گر کر فی من 8000 تا 8400 روپے کی کم سطح پر آگیا جس کے باعث کاشتکار، جنرز اور پھٹی کے بیوپاریوں میں اضطراب پیدا ہوگیا جبکہ مارکیٹ میں بحرانی کیفیت پیدا ہوگئی روئی کے بھا کے ساتھ ساتھ پھٹی کے بھا ؤمیں بھی فی 40 کلو 400 روپے کی کمی واقع ہوئی علاوہ ازیں بنولہ، بنولہ تیل اور کھل کے بھا میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی جبکہ کاٹن یارن کا بھا ؤبھی خاطر خواہ گر گیا۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 900 روپے کی نمایاں کمی کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 8000 روپے کے بھا ؤپر بند کیا۔صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ فی من 8000 تا 8100 روپے پھٹی کا بھا ؤفی 40 کلو 3600 تا 3800 روپے رہا۔ جبکہ صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 8200 تا 8400 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 3400 تا 3800 روپے رہا۔ ہفتہ کے آخری دو دنوں میں پنجاب کے کپاس پیدا کرنے والے کچھ علاقوں میں بارشوں کی وجہ سے پھٹی کی رسد کم ہونے سے روئی کا بھاؤ فی من 100 سے 200 روپے بڑھ گیا تھا۔ آئندہ دنوں میں بھی محکمہ موسمیات نے سندھ و پنجاب کے کپاس کے علاقوں میں بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جس کے باعث پھٹی کی رسد میں تھوڑی کمی ہوگی۔

کپاس کی فصل کی کچھ کوالٹی متاثر ہوگی البتہ پیداوار میں اضافہ ہوگا۔کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں روئی کے بھاؤ میں مندی کا عنصر پایا گیا سوائے بھارت کے وہاں روئی کا بھا ؤمستحکم رہا۔ آئندہ ہفتہ کے دوران عیدالاضحی کی تعطیلات ہونے کی وجہ سے کاروبار کم ہوگا جبکہ جنرز نے بھی عید کے بعد کی ڈیلوری کی خاصی روئی فروخت کر چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے عید کے بعد فوری طورپر روئی کے بھاؤ میں ممکن ہے تھوڑا اضافہ ہوگا۔نسیم عثمان نے بتایا کہ کاٹن کے کاروبار

سے منسلک تمام سیکٹرز نے پاکستان کے نئے منتخب شدہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کی پوری ٹیم سے قوی امید وابستہ کئے ہوئے ہے کے وسیع تر ملک کی مفاد میں زبو حالی کا شکار ملک کی معیشت کی خصوصی طور پر ملک کے ذرے مبادلہ کمانے والے برآمدی سیکٹرز جس میں ٹیکسٹائل سیکٹر بھی اہمیت کا حامل ہے اور ملک کے زراعت کے شعبہ کی بحالی کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدام کرے دیگر فصلوں کے ساتھ خصوصی طور پر گزشتہ کئی سالوں سے زبو حالی کا شکار کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…