اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)وفاقی حکومت نے یکم جولائی 2026 سے سرکاری ملازمین اور تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس کے نئے سلیب نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
قومی اسمبلی کی جانب سے فنانس بل 2026 کی منظوری کے بعد نئی ٹیکس شرحیں باقاعدہ طور پر لاگو ہوں گی۔ نئے نظام کے مطابق سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن حاصل کرنے والے افراد کو انکم ٹیکس سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اسی طرح جن افراد کی سالانہ آمدن 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے کے درمیان ہوگی، ان پر صرف ایک فیصد انکم ٹیکس لاگو کیا جائے گا۔
فنانس بل کے تحت 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں کو 6 ہزار روپے مقررہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جبکہ اضافی رقم پر 11 فیصد کے حساب سے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
اسی طرح جن افراد کی سالانہ آمدن 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے تک ہوگی، ان پر ایک لاکھ 16 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس عائد ہوگا اور باقی آمدن پر 20 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ یہ شرح پہلے 23 فیصد تھی، جس میں کمی کی گئی ہے۔
32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ کمانے والے افراد کے لیے 3 لاکھ 46 ہزار روپے مقررہ ٹیکس کے ساتھ اضافی آمدن پر 25 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔ جبکہ 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والوں کو 5 لاکھ 41 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور باقی رقم پر 29 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
مزید برآں، 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کے لیے 9 لاکھ 76 ہزار روپے کا مقررہ ٹیکس رکھا گیا ہے جبکہ اضافی آمدن پر 32 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
نئے ٹیکس ڈھانچے کے مطابق 70 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کو 14 لاکھ 24 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جبکہ اضافی آمدن پر 35 فیصد انکم ٹیکس لاگو ہوگا۔
فنانس بل 2026 کے تحت یہ تمام نئی ٹیکس شرحیں یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوں گی اور ان کا اطلاق سرکاری ملازمین اور تنخواہ دار طبقے پر کیا جائے گا۔



















































