بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ملازمین کیلیے انکم ٹیکس کے نئے سلیبز؛ کتنی تنخواہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی؟

datetime 23  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)وفاقی حکومت نے یکم جولائی 2026 سے سرکاری ملازمین اور تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس کے نئے سلیب نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

قومی اسمبلی کی جانب سے فنانس بل 2026 کی منظوری کے بعد نئی ٹیکس شرحیں باقاعدہ طور پر لاگو ہوں گی۔ نئے نظام کے مطابق سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن حاصل کرنے والے افراد کو انکم ٹیکس سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اسی طرح جن افراد کی سالانہ آمدن 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے کے درمیان ہوگی، ان پر صرف ایک فیصد انکم ٹیکس لاگو کیا جائے گا۔

فنانس بل کے تحت 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں کو 6 ہزار روپے مقررہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جبکہ اضافی رقم پر 11 فیصد کے حساب سے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

اسی طرح جن افراد کی سالانہ آمدن 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے تک ہوگی، ان پر ایک لاکھ 16 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس عائد ہوگا اور باقی آمدن پر 20 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ یہ شرح پہلے 23 فیصد تھی، جس میں کمی کی گئی ہے۔

32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ کمانے والے افراد کے لیے 3 لاکھ 46 ہزار روپے مقررہ ٹیکس کے ساتھ اضافی آمدن پر 25 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔ جبکہ 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والوں کو 5 لاکھ 41 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور باقی رقم پر 29 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

مزید برآں، 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کے لیے 9 لاکھ 76 ہزار روپے کا مقررہ ٹیکس رکھا گیا ہے جبکہ اضافی آمدن پر 32 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

نئے ٹیکس ڈھانچے کے مطابق 70 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کو 14 لاکھ 24 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جبکہ اضافی آمدن پر 35 فیصد انکم ٹیکس لاگو ہوگا۔

فنانس بل 2026 کے تحت یہ تمام نئی ٹیکس شرحیں یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوں گی اور ان کا اطلاق سرکاری ملازمین اور تنخواہ دار طبقے پر کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…