جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کرنٹ اکائونٹ خسارے میں جولائی تا اکتوبر 2.75 ارب ڈالر کا اضافہ

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی(این ان آئی) جاری کھاتے (کرنٹ اکائونٹ)کا خسارہ رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ (جولائی تااکتوبر) میں سال بہ سال 2.75ارب ڈالر یا 122فیصد بڑھ گیا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق توازن ادائیگی کا بحران مزید شدت اختیار کرگیا ہے، بڑھتی ہوئی درآمدات کی وجہ سے درپیش تجارتی خسارہ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق

رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ کے دوران جاری کھاتے کو 5ارب 1 کروڑ 30لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں جاری کھاتے کو 2ارب 26کروڑ ڈالر خسارے کا سامنا تھا، اس طرح جولائی تا اکتوبر کرنٹ اکانٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.4 فیصد ہوگیا جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 2.2 فیصد تھا، صرف اکتوبر میں جاری کھاتے کا خسارہ 1 ارب 31کروڑ50 لاکھ ڈالر رہا جبکہ ستمبر 2017میں 1ارب 9 کروڑ ڈالر کا خسارہ درپیش رہا۔اعدادوشمار کے مطابق 4 ماہ کے دوران اشیا کے تجارتی خسارے کی مالیت 9ارب 74کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 6ارب 90کروڑ ڈالر رہی تھی، اشیا و خدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 11ارب 40کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 8ارب 42کروڑ ڈالر تھا، اکتوبر میں تجارتی خسارے کی مالیت 2ارب 46کروڑ ڈالر رہی، ستمبر کے دوران بیرونی تجارت کو 2ارب 22کروڑ ڈالر خسارے کا سامنا تھا، رواں مالی سال کے پہلے 4ماہ کے دوران ترسیلات کی مالیت 6 ارب 44کروڑ ڈالر رہی، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ترسیلات کی مالیت 6 ارب 30کروڑ ڈالر رہی تھی، اکتوبر کے مہینے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 1 ارب 65 کروڑ 40لاکھ ڈالر کی رقوم پاکستان بھجوائیں، ستمبر کے مہینے میں 1ارب 29 کروڑ 40لاکھ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…