جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ،چین نے ایک اور شاندار اعلان کردیا

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) چین کے قائم مقام سفیر ژائولی جیان نے یہاں کہا ہے کہ بعض نئے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کیلئے چین ۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے مشترکہ تعاون کمیٹی (جے سی سی ) کا اجلاس ماہ رواں کے اواخر میں یہاں منعقدہو گا ، اس اجلاس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے ، توقع ہے کہ اس اجلاس میں چاروں صوبوں ،وفاق کے زیر اہتمام

قبائلی علاقوں ، آزاد جموں و کشمیر ، گلگت بلتستان اور گوادر آزادانہ زون میں ایک، ایک صنعتی زون قائم کر نے کے آٹھ صنعتی زونوں قیام کے منصوبوں کا جائزہ لیا جائیگا۔ حال ہی میں اختتام پذیر چین کی کمیونسٹ پارٹی کی 19ویں قومی کانگریس کی تاریخی کامیابیوں اور بڑھتی ہوئی چین و پاکستان سماجی و اقتصادی شراکت داری پر ان کے اثرات کے بارے میں اخبارنویسوں کو بریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے کی ترقی میں پاکستان کی مدد کرنا سڑک و ریلوے کے ڈھانچہ جاتی نیٹ ورک کی مزید بہتری کے علاوہ سی پیک کا اگلا مرحلہ ہے، ایک سوال کے جوا ب میں ژائولی جیان نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پاکستان میں قائم کئے جانیوالے کوئلے سے چلنے والے بجلی پیدا کرنے والے منصوبے غیر ماحول دوست ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کی رپورٹیں محض افواہیں ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ چینی ٹیکنالوجی ارضیاتی ہے، ان منصوبوں میں ’’تازہ ترین شاہکار‘‘ ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے ، اس ٹیکنالوجی کا اچھی طرح تجربہ کیا گیا ہے اور یہ ماحول دوست ثابت ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ چین میں پیدا کی جانیوالی بیشتر توانائی کوئلے سے حاصل کی جاتی ہے ، مزیں برآں دنیا کے کئی ترقیافتہ ممالک اس سے استفادہ کررہے ہیں ، چینی سفیر نے کہا کہ سی پیک کی پاکستان ۔چین اور پورے خطے کیلئے زبردست اہمیت ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں اور چاہتی ہیں کہ اس گیم چینجرمنصوبے کی کامیاب تکمیل ہو اور عمل کیا جانا چاہئے، یہ امر انتہائی باعث اطمینان ہے کہ سی پیک پر عملدرآمد کا کام احسن طریقے سے جاری ہے اور توانائی سے متعلق بعض منصوبے مقررہ پروگرام سے پہلے مکمل کرلئے گئے ہیں ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…