کراچی(نیوز ڈیسک) برآمدی کنسائمنٹ میں پیکنگ کے لیے غیرمعیاری اور ناقص لکڑی کا استعمال یورپی منڈی میں پاکستانی برآمدات کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔
یورپی یونین کے فائیٹو سینٹری کنٹرول ادارے یورو فائٹ نے رواں سال جنوری سے اپریل کے دوران پاکستان سے یورپ ایکسپوٹ کی جانے والی 7بڑی کنسائمنٹس پیکنگ کے لیے ناقص اور غیرپراسیس شدہ لکڑی کے استعمال کی وجہ سے مسترد کردی ہیں اور ان کنسائمنٹس میں لکڑی کی پیکنگ پر مشتمل برآمدی اشیا بھی تلف کردی گئی ہیں۔
جس سے پاکستانی ایکسپورٹرز کو کروڑوں ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔یورپی یونین نے پاکستان کی کنسائمنٹس لکڑی کی پیکنگ کے لیے انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ فار فائیٹو سینٹری میڑر( آئی ایس پی ایم) پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے مسترد کی گئی ہیں۔
رواں سال مسترد کی جانے والی7کنسائمنٹس ایک فیبرک کمپنی کی جانب سے ایکسپورٹ کی گئی تھیں جو یورپ کی Latviaاور Lithuaniaپورٹس پر انٹرسیپٹ کرنے کے بعد مسترد کی گئیں۔ یورپی یونین کو پاکستانی برآمدات میں ناقص اور غیرمعیاری لکڑی کے استعمال کی وجہ سے کنسائمنٹ مسترد کیے جانے کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
سال 2014میں بھی غیرمعیاری اور ناقص لکڑی اور یورپی یونین کے معیار کی خلاف ورزی کی وجہ سے 9کنسائمنٹس مسترد کی گئی تھیں۔ یورپی قانون کے مطابق کنسائمنٹ میں خواہ کھانے پینے کی اشیا ہوں، کپڑا یا انجینئرنگ مصنوعات ، پیکنگ کے لیے استعمال کی جانے والی لکڑی کا بیماریوں اور کیڑوں سے محفوظ ہونا لازمی ہے۔ گزشتہ سال مسترد کی جانے والی کنسائمنٹس میں کپڑا، دستکاریاں اور انجینئرنگ مصنوعات شامل ہیں جن کے مسترد کیے جانے سے پاکستان کو زرمبادلہ کی مد میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور ایکسپورٹ کرنے والی کمپنیوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔
یورپی یونین نے برآمدای کنسائمنٹ میں لکڑی کی پیکنگ کے لیے خصوصی قانون سازی کی ہے جس کا مقصد غیرمعیاری اور غیرپراسیس شدہ لکڑی کی پیکنگ کے ذریعے یورپ میں زرعی بیماریوں اور کیڑوں کے پھیلاو¿ کو روکنا ہے۔ یورپی یونین، امریکا اور برطانیہ سمیت دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ملکوں نے لکڑی کی پیکنگ کیلیے خصوصی اسٹینڈرڈ تیار کیے ہیں جنہیں انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ فار فائیٹو سینٹری میڑرز (آئی ایس پی ایم) کہا جاتا ہے اس اسٹینڈرڈ کے تحت پیکنگ کیلیے استعمال کی جانے والی لکڑی میں درخت کی چھال کا استعمال یا چھال کی موجودگی ممنوع ہے۔ پیکنگ کی لکڑی کیلیے ہیٹ ٹریٹمنٹ لازمی ہے جس کے تحت پیکنگ میں استعمال ہونے والی لکڑی کو 30 منٹ تک 56ڈگری درجہ حرارت سے گزارنا ضروری ہے۔لکڑیوں کو بیماریوں اور کیڑوں سے پاک کرنے کیلیے میتھائل برومائٹ ٹریٹمنٹ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے جس کے تحت پیکنگ کی لکڑی کو میتھائل برومائٹ گیس چیمبر میں 10 ڈگری درجہ حرارت پر 24گھنٹے کیلیے رکھا جاتا ہے۔پراسیس شدہ لکڑی کو پیکنگ میں استعمال کرنے کی صورت میں ایکسپورٹ کرنیوالے ملک کا نیشنل پلانٹ پروٹیکشن آرگنائزیشن(این پی پی او) لکڑی کو سرٹیفائی کرے گا اور پیکنگ والی لکڑی پر قرنطینہ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پراسیس اور ٹریٹمنٹ کی تصدیق ایک خصوصی نشان کی شکل میں ثبت کی جائے گی۔
ناقص لکڑی کی پیکنگ کے باعث یورپ کو برآمدات خطرے میں پڑ گئیں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
وزیرپیٹرولیم کاپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں بارے اہم اعلان
-
دنیا کا سب سے بڑا غار
-
برطانیہ جانے کے خواہشمندوں کےلئے بڑی خبر، محفوظ اور آسان قانونی راستوں کا اعلان
-
شناختی کارڈ پر گھر کا پتہ تبدیل کرانے کا آسان طریقہ، نادرا نے رہنمائی جاری کر دی
-
پاکستان میں یکم جولائی سے مون سون کا آغاز،محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کر دی
-
اسلام آباد ، لاہور اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلےکے شدید جھٹکے
-
معطل خاتون افسر کے گھر سے کروڑوں روپے نقد، ہیرے اور سونا برآمد
-
سرگودھا: بااثر افراد کی جانب سے مبینہ زیادتی کرنے کی شکایت پر ملزمان نے بچے کو زندہ دفن کر دیا
-
مری ایکسپریس وے پر مسافر وین مکمل جل گئی
-
حکومت نے ڈیزل اور پیٹرول پر لیوی میں اضافہ کردیا
-
سرگودھا،8سالہ بچی کیساتھ جسم پرتشدد کے نشانات اور ہڈی ٹوٹ جانے کے انکشافات ،تفتیش میں تیزی آ گئی
-
مون سون کی آمد، ملک کے مختلف علاقوں میں یکم جولائی سے بارشوں کی پیشگوئی
-
ملکی تاریخ میں پہلی بار بڑی گاڑیوں کی درآمدات بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
-
جیو نیوز کی 10 محرم کو نشر ہونیوالی ڈاکیومینٹری ’سفر عشق‘ کے حوالے سے وضاحت اور معذرت



















































