جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سائنسدان بھی جعل سازی کرتے ہیں، یقین نہیں آ تا تو کلک کریں

datetime 21  دسمبر‬‮  2014 |

ٹوکیو۔۔۔۔ارزاں اور تیز طریقے سے سٹم سیلز کی تیاری کا دعویٰ کرنے والی جاپانی سائنسدان نے اپنی تحقیق کو جعلی تسلیم کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے۔ڈاکٹر ہاروکو اوبوکاتا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے پاس معذرت کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔سٹم سیل پر تحقیقات کرنے والڈاکٹر ہاروکو نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے ایک اہم دریافت کی ہے جس سے ہر فرد کے لیے مخصوص ذاتی طب کا دور شروع ہو سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عام انسانی خلیوں کو تیزاب میں نصف گھنٹے تک ڈبونے سے سٹم سیلز تیار کیے جا سکتے ہیں۔تاہم بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ دعویٰ غلط تھا اور ڈاکٹر ہاروکو نے ریسرچ میں من گھڑت معلومات شامل کی تھیں۔سٹم سیلز کو انسانی جسم کے کسی بھی بافت کی شکل دی جا سکتی ہے اور انہیں امراضِ قلب، چشم اور دماغ کے علاج میں استعمال کیا جا رہا ہے۔نیچر نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے یہ ٹیکنالوجی سستی، تیز تر اور محفوظ تر ہو سکتی ہے۔انسانی جسم اعصابی نظام کے خلیے، جگر کے خلیے یا پٹھوں کے خلیے جیسے مختلف قسم کے خلیوں سے بنا ہوتا ہے اور ہر قسم کے خلیوں کا مخصوص مقصد ہوتا ہے۔تاہم سٹم سیلز سے کسی قسم کے خلیے بن سکتے ہیں اور انسانی اعضا کی تخلیق کی وجہ سے اب یہ ریسرچ علمِ طب میں تحقیق کا اہم جز ہے۔عموماً سٹم سیلز جنین سے لیے جاتے ہیں تاہم اس ذریعے سے سٹم سیلز کے حصول کے بارے میں لوگوں کو اخلاقیات کے حوالے سے کافی خدشات ہیں۔نوبل انعام یافیہ تحقیق نے یہ بھی بتایا تھا کہ جینیاتی طور پر تبدیلی کر کے انسانی جلد کو بھی سٹم سیلز کی تشکیل میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…