جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

وہ کسی کے بچے تھے تو یہ بھی تو کسی کے بچے ہیں، آخر حکومت کہاں ہے؟

datetime 19  دسمبر‬‮  2014 |

تھرپارکر: سول اسپتال مٹھی میں غذائی قلت کے شکار مزید 2 بچے دم توڑ گئے جس کے بعد رواں ماہ ہلاک بچوں کی تعداد 87 ہوگئی۔

حکومت سندھ کی لاپروائی اور عدم توجہ کے باعث ضلع تھرپارکر میں غذائی قلت کے شکار کمسن بچوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ نہ تھم سکا اور آج مزید 2  بچے دوران علاج مٹھی کے سول اسپتال میں چل بسے جس کے بعد 19 روز کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 87 بچوں سمیت 102 ہوگئی۔ گزشتہ تین ماہ سے غذائی قلت کے باعث ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 600 سے تجاوز کرگئی ہے۔

واضح رہے کہ ضلع تھرپارکر کے چاروں تحصیلوں میں گزشتہ 2 سال سے قحط نے بدترین ڈیرے ڈال رکھے ہیں جب کہ اس دوران نومولود اور کمسن بچوں سمیت سیکڑوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…